مراکش کی طرف سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا کہ وہ 1947 سے ہی پاکستان کو اپنا دوست سمجھ رہا ہے اور اب وہ اس دوستی کی طرف بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن میں انسپائر کرنے والی بات یہ ہے کہ پہلے سے پاکستان اور مراکش کے درمیان دوستی کی طرف سے ایک دیرینہ تعلقات تھا، اس کے لیے اس دورے کی ضرورت نہیں ہوگئی تھی۔