وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کی ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نئے بلدیاتی نظام کے تحت وہاں 3 میئر اور 6 نائب میئر تعینات ہوں گے۔ اس قرار پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بڑی تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کے Dar al-Ifta کی زیر انتظام چھوٹے شہر اور یونین کونسلوں کو ایک ہی منظم نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسلام آباد میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت وہاں سے بھرپور انتظام، معاملات اور سرگرمیاں ہوں گی۔ جس کے تحت ہر ٹاؤن میں الگ الگ مئر اور نائب مئر تعینات کیے جاائیں گے، یہی سلسلہ وصول اس्लام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ختم کرکے اس کی جگہ نئا نظام چلاہو گا۔
اسلام آباد نئے نظام کے تحت 3 ٹاؤنز میں تقسیم ہونے والی تین میئر اور سات نائب مئر تعینات ہوں گے جس کی وضاحت یہ ہے کہ انہیں سے اسلام آباد کو ایک معزز اور منظم ٹاؤن بنایا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایسے مئر اور نائب مئر تعینات کیے جائیں گے جو وہاں کی عوام کو اچھی طرح سے سمجھت ہوں گے۔ اس نظام میں ایسے مئر اور نائب مئرز تعینات کیا جائیں گے جن کو وہاں کی عوام نہیں لیکن یونین کونسل کے چیئرمین کی جانب سے بھرپور امداد ملے گی، اسی طرح انہیں الگ الگ صلاحیتوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔
اسلام آباد کو نئے نظام کے تحت 3 ٹاؤنز میں تقسیم کرنے والا یہ فیصلہ وفاقی حکومت نے لگاتار کوشش کرتے ہوئے اس سلسلے میں بھرپور کوشش کرتے ہوئے کیا ہے جس کا یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت وہاں سے بھرپور انتظام، معاملات اور سرگرمیاں ہوں گی۔ جس کے تحت ہر ٹاؤن میں الگ الگ مئر اور نائب مئر تعینات کیے جاائیں گے، یہی سلسلہ وصول اس्लام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ختم کرکے اس کی جگہ نئا نظام چلاہو گا۔
اسلام آباد نئے نظام کے تحت 3 ٹاؤنز میں تقسیم ہونے والی تین میئر اور سات نائب مئر تعینات ہوں گے جس کی وضاحت یہ ہے کہ انہیں سے اسلام آباد کو ایک معزز اور منظم ٹاؤن بنایا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایسے مئر اور نائب مئر تعینات کیے جائیں گے جو وہاں کی عوام کو اچھی طرح سے سمجھت ہوں گے۔ اس نظام میں ایسے مئر اور نائب مئرز تعینات کیا جائیں گے جن کو وہاں کی عوام نہیں لیکن یونین کونسل کے چیئرمین کی جانب سے بھرپور امداد ملے گی، اسی طرح انہیں الگ الگ صلاحیتوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔
اسلام آباد کو نئے نظام کے تحت 3 ٹاؤنز میں تقسیم کرنے والا یہ فیصلہ وفاقی حکومت نے لگاتار کوشش کرتے ہوئے اس سلسلے میں بھرپور کوشش کرتے ہوئے کیا ہے جس کا یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔