ہمارے جن ذی | Express News

ہاکی پلیئر

Well-known member
بھائیو! یہ میرا خیال ہے کہ ایسا نہ رہنا چاہئیے جو اپنے بچوں کو بھوک اور افلاس سے مرنے دیتا ہو، ان کی تعلیم، مہذبiet اور اخلاقیات سیکھنے کا وقت اور جگہ نہیں لینا چاہئیے، یہ تو وہی کام ہے جو پہلے کی نوجوانوں کو کیا جاتا تھا جب انھیں بھی ملک کی مٹی میں دفن کر دیا جاتا تھا۔

سوشل میڈیا کے ہاتھ میں اسمارٹ فون اور ٹی وی چینل اسی طرح کا منفرد فائدہ نہیں پہنچتا، مگر اس سے وہ نئے طوفان بدتمیزی اور غدر کا منبع بنتے ہیں۔ وہ انسانی سمجھ کو کم کرکے لاتے ہیں، لوگ اپنے بچوں سے الگ رہتے ہیں اور ان کا سننا نہیں چاہتی۔

بے بی بومرز کی سوچ میں آساکار ہوتا جاتا ہے، انھیں اپنے بڑوں کے تجربے سے لبریز باتیں سننی چاہئیں تھیں، لیکن اب وہ ان پر یقین نہیں رکھتے اور ڈھونڈتے ہیں کہ اس سے کچھ فائدہ ہوگا۔

اس لیے اگر ہم ان بچوں کو ہوش و عقل سے لادیتے ہیں تو ان کی پہلی جتنے جتنے سال بھی گزر جائیں اس میں انھیں اپنے تجربات اور بڑوں سے ملنے کا موقع ملتا رہتا ہے، پھر وہ خود کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے ہوتے ہیں اور اپنے لیے نئی پہچان بناتے ہیں۔

ایک ایسا موقع ہے جس پر آپ ان کے بھائیوں سے بات کر سکیں، وہ اپنی فطرت کی وجہ سے زیادہ پریشانی میں نہیں آتے بلکہ ان کی خواہش اور ہمت سے وہ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں، اس لیے آپ انھیں ہوش و عقل سے لادھ کر ان کی بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنے دیتے ہیں۔
 
ایسا نہ رہنا چاہئیے جب اپنے بچوں کو مٹھیاں پھیلاتی ہوں اور ان کی تعلیم، مہذبiet اور اخلاقیات کو سمجھنے کا وقت نہ ملے, یہ وہی کام ہے جو پہلے کی نوجوانوں کو کیا جاتا تھا... اب اس نے ہمیں ایک نئا مشین کیا ہے، سماج میں بدتمیزی اور غدر کی رائے بھی لائی ہے...

سوشل میڈیا پر لوگ اپنے بچوں سے الگ رہتے ہیں اور ان کا سننا نہیں چاہتی, وہ پیارے باپا اور بی بی کی بات سونے پر مجبور کرنے والے بنتے ہیں... ایسا نہ رہنا چاہئیے!

اس بچے کو میں اپنی پانچویں جماعت کی وارثہ کہتا تھا جسے مجھے ہمیں ایک اور عمدہ سماجی منصوبے میں شامل کرنے کا موقع ملا... ڈھونڈتے وقت اس کی سوچ سے ہمت ہار گئی!

اس لیے جس دن ہم ان بچوں کو اپنی فطرت اور تجربات سے لادھ کر دیتے ہیں تو وہ اپنے بڑوں سے ملنے کا موقع حاصل کرلیں گے... پھر انہیں اپنی عقل اور حقداری سمجھنی پڑے گی!
 
اس نئی نوجوان نسل کو میرا بہت متاثر کیا جاتا ہے، انھیں بھوک اور افلاس سے مرنے دیا گیا ہو تو وہ اب بھی اپنی زندگی کا اچھا تعین لگا نہیں سکتے، لیکن جب انھیں تعلیم اور مہذبiet کا ایسا موقع ملتا ہے جس پر وہ اپنے بڑوں سے بات کر سکیں تو وہ اپنی پہچان بناتے ہیں اور اپنی زندگی کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے رہتے ہیں 🙌
 
میرا خیال ہے کہ اس زمانے میں وہ لوگ جو اپنے بچوں کی تعلیم کو پہلے اور سب سے اہم معاملے سمجھتے ہیں انھیں ایسا نہ رہنا چاہئیے جو ان کے لیے دنیا کی مٹی میں دُفن کیا جاتا ہے، بچوں کو اپنی تعلیم اور اخلاقیات کی سیکھنے کا ایک منصوبہ بنانا چاہئیے جو انھیںFuture کے لیے تیار کرے اور انھیں دنیا کے پچھلے نمونوں سے بچانے میں مدد فراہم کرے 🤔
 
🤯 یہ سب کچھ تو میری ذہنی صورت حال کی بات ہے، آپ جانتے ہوں کہ مجھے ٹویٹرز اور ان کی سوچ سے بہت دوزخ ہوتی ہے، وہ سب نوجوانوں کو اپنی بیومری اور بے بومری پر چھوا کر رکھتے ہیں، اور ان کے ذہن کی بات بھی ہوتी ہے کہ وہ سب پہلے کی نوجوانوں جیسے تھے، اس سے میرا لگتا ہے کہ وہ اپنی نئی جنن سے پہلی نیند سونے اور ہمیشہ ناقص چلا جانے والی زندگی کی بات کر رکھتے ہیں۔
 
بچوں کو کیسے ایسا نہ رہنا چاہئیے جو اپنے بھائیوں سے الگ رہتے ہیں اور ان کی بات سننی نہیں چاہتیں? ابھی قبل کے نوجوانوں کا یہی پہلو تھا جب انھیں بھی ملک میں دبا دیا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا کی وہ لہر جو ہمہ وقت ایسا ہوا کرتا ہے، وہ نئے طوفان بدتمیزی اور غدر کا منبع بنتی ہے۔

اس لیے ہم ان بچوں کو اپنے بھائیوں سے ملنے کی جگہ دیتے ہیں، اس طرح ان کا سامنا بھی ایسا نہیں رہتا۔
 
اس وقت کتنی حد تک بچوں کو اپنی زندگی کا احاطہ اور محفوظ رکھنا چاہئیے؟ میں خیال کرتا ہوں کہ انھیں ایسے حالات سے نجات دہانی کی جائے جو انھیں اپنی زندگی کا حقدار بناتے ہیں۔

اس وقت ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کتنا اثر انداز ہوتا ہے، یہ لوگوں کی سمجھ کو کم کرکے رہتا ہے؟ ہم اپنی فوج کو بھی ایسی طرح سے تاکید کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی کو محفوظ بنائیں، لیکن اس وقت کتنا ایسا نہیں ہوتا؟

اس لیے میں یہ کہتا ہوں کہ ہم انھیں اپنی زندگی کے بارے میں زیادہ سوجھنے دیتے ہیں، انھیں اپنے بچوں کی بھوک اور افلاس سے لڑتی دیکھتے ہیں، لیکن اس وقت کتنا ایسا نہیں ہوتا؟
 
سوشل میڈیا پر بچوں کو ایک بار ٹکرانے سے کفایت نہیں ہوتا، انھیں ہوش و عقل سے لادھ کر ان کی زندگی کو یقینی بنایا جانا چاہئیے!
 
یہ نازک موضوع ہے! میرا خیال ہے کہ ہم لوگ اپنے بچوں کی زندگی کو بہت زیادہ سہولت سے لے رہے ہیں، انھیں بھوک اور افلاس سے مرنے دیتے ہوئے نہیں چاہئیں بلکہ انھیں تعلیم، مہذبiet اور اخلاقیات سیکھنے کا موقع ملنا چاہئیے!

سوشل میڈیا کی بات کرتے ہوئے، اسے میرا خیال ہے کہ وہ نئے طوفان بدتمیزی اور غدر کو جنم دیتا ہے جس سے لوگ اپنے بچوں سے الگ رہتے ہیں اور ان کا سننا نہیں چاھتیں!

بے بی بومرز کی بات کرتے ہوئے، میں انھیں اپنے تجربات سے لبریز باتیں سننا چاہئیں تھیں لیکن اب وہ ان پر یقین نہیں رکھتے اور ڈھونڈتے ہیں کہ اس سے کچھ فائدہ ہوگا!

اس لیے اگر ہم ان بچوں کو ہوش و عقل سے لادیتے ہیں تو انھیں اپنے تجربات اور بڑوں سے ملنے کا موقع ملتا رہتا ہے، پھر وہ خود کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے ہوتے ہیں اور اپنے لیے نئی پہچان بناتے ہیں!

ایک ایسا موقع ہے جس پر آپ ان کے بھائیوں سے بات کر سکیں، وہ اپنی فطرت کی وجہ سے زیادہ پریشانی میں نہیں آتے بلکہ ان کی خواہش اور ہمت سے وہ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں!

:confused:
 
تمہیں یہ بات نہیں آئتی کہ میری پچھلی بار میں اسی موضوع پر لکھی ہوئی تھی، ابھی فیک بک پر ان کی ایک اور بار ہے جو مجھے یہی بات سنیا دیتی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو مٹی میں دفن کرنا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے نئے طوفان بدتمیزی سے بھی آمنگ رہتے ہیں، وہ لوگ جو اپنے بچوں کو الگ رہتے ہیں ان کی بات سنتی ہیں نہیں کہ اپنی فطرت کو سمجھتے ہوئے، وہ ان کا تعلیم دیا گیا ہوتا ہے مگر اس میں بھی کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔

وہ بے بی بومرز کو بے فائض سمجھتے ہیں، ان کی تجربات سنتی ہیں اور وہ ہوش و عقل سے لادے جانے کا موقع نہیں ملاتا۔
 
اس نئے دور میں بچوں کو کیا تعلیم دینا چاہئیے؟ آج بھی ان کی بھوک اور افلاس سے مرنے والے جوابدہ ہیں، نہیڹ وہی ہوں گے جو پچیسوں سال قبل کے تین دہاکوں کی نوجوانوں کو؟

اس سوشل میڈیا پر جس نے سب کو ایک دوسرے سے ملنے کی چاہن دھمکی دی ہے، اب وہی طوفان بدتمیزی اور غدر کا منبع بنتے ہیں؟ وہ انسانی سمجھ کو کم کرکے لاتے ہیں اور لوگ اپنے بچوں سے الگ رہتے ہیں، ان کی بات سنی نہیں چاہتی ہیں؟

بے بی بومرز کے لیے اپنے تجربے کو سمجھنا اور اسے اپنے بچوں سے بٹھاینا، یہ سب ایک چاہن دھمکی ہی ہے؟ انھیں اپنی فطرت کی وجہ سے زیادہ آنکھ لگاتی ہے کہ وہ اپنے تجربوں سے کچھ نہیں سمجھتے؟
 
یہ تو بہت سی باتوں پر یقین ہے، ایسے نہیں ہونا چاہئیے کہ وہ اپنی پیداوار اور معاشی صورتحال سے دوچار ہو کر مرتے ہیں، انھیں تعلیم اور مہذبیت سیکھنے کا حق ہے، چاہئیے اس وقت کی نوجوانوں کو بھی ملک کی شاندار فلاح کے لیے کام کرنے کا موقع ملے।
 
بے شك یہ بات تو صاف ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمھن ہمارے جہت بھی ایسا نہیں بنایا اور اس پر بھی ہماری یقین نہیں چاہئیے کہ وہ ہمیں سمجھتا ہے اور ہمارے لیے فائدہ دلاتا ہے۔

لیکن، یہ بات تو ایسے لئے نہیں کہ وہ ہمیں بھوک اور افلاس سے مرنے کی جگہ دیتا ہو، بلکہ اس پر یہ بات تو پوراً ٹھیک ہے کہ ہم ان بچوں کو ہوش و عقل سے لادھ کر ان کی تعلیم اور مہذبiet سیکھنے کا موقع دیں تاکہ وہ اپنی زندگی کو اچھی طرح سمجھ सकें۔

لیکن، یہ بات تو ایسے لئے نہیں کہ اس سے انھیں مٹی میں دفن کر دیا جائے یا وہ نئے طوفان بدتمیزی کا شکار ہوں، بلکہ اس پر یہ بات تو پوراً ٹھیک ہے کہ ہم ان بچوں کو اپنے تجربات اور بڑوں سے ملنے کا موقع دیں تاکہ وہ اپنی زندگی کی پہچان بنائیں۔
 
اس وقت یہ سمجھنے میں نہیں آتا کہ کیا ایسا بچہ بھوک اور افلاس سے مر جاتا ہو، یہ تو وہی معاملہ ہے جو پہلے کی نوجوانوں کو ملتا تھا۔

سوشل میڈیا پر لوگ اپنی بچپن کا ایسی وقت لیتے ہیں جیسا وہ اس سے قبل کے بچے کے لیے تھا، مگر وہ پتہ نہیں چلتے کہ ان کی یہ سوچ کیا ہے، یہ تو ایک نئی طوفان بدتمیزی اور غدر کا منبع بنتا ہے جس سے لوگ اپنے بچوں سے الگ رہتے ہیں اور ان کا سننا نہیں چاہتی۔

بے بی بومرز کو اپنی بڑی باتیں سنیں چاہئیں، لیکن اب وہ ان پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ اس سے فائدہ نہیں پہنچتا اور اس کی بجائے انھیں بھوک اور افلاس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 
اس وقت بچوں کو پیداوار کشمکش میں رکھتے ہوئے ان کا تعلق اپنے بھائیوں سے محفوظ طریقے سے نہیں رہیڈا جاتا، وہ اپنی بہنیوں کی طرح ان کو بھی اس معاملے میں لڑتے ہوئے رکھ دیں گے اور ان کے ذہن سے بھوک اور پریشانیاں دوری کر لیں گے.
 
بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنا چاہئیے، وہ ان کی THINKING کو کم کر کے لاتے ہیں اور لوگ اپنے بچوں سے الگ ہو کر رہتے ہیں 🤔

ایک بار بھی انھیں اس کا فائدہ نہیں ملنا چاہئیے، وہ نوجوان تھے جو اپنے شہر میں بدامنی سے لڑتے تھے اور اب وہ اسے انٹرنیٹ کے ذریعے جاری کر رہتے ہیں 🚫

ان کو اپنے تجربات اور تجدید کار سوچ سے باسٹا نہیں رکھنا چاہئیے، انھیں ہوش و عقل سے لادھ کر ان کی بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنے دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی فطرت اور صلاحیتوں کو سمجھ سکے 🌟
 
بچوں کو کمپین چلائی جائے! اب میرا خیال ہے کہ وہی بچے ہوتے ہیں جو اپنے ماں باپ سے بات نہیں کرتے اور ان کی طرف سے بھی نہیں ہوتے، وہی بچے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کو بھوک اور افلاس میں چھوڑ دیتے ہیں! 😂
 
یہ واضح طور پر ایک خطرناک ماحول ہے جہاں لگتا ہے کہ بچوں کو آپ کی ہمہ پہنی کپڑے سے الگ کر دیا جا رہا ہے، انھیں ایک ایسا ماحول ملتا ہے جہاں انھیں اپنے تجربات اور معاشرت کے لوگوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، یہ ایک خطرناک ماحول ہے جس سے انھیں اپنی زندگی کا سمجھنا مشکل ہوگا۔
 
آج کے اس سیشن میں ایسا نہ رہنا چاہئیے جو اپنے بچوں کو بھوک اور افلاس سے مرنے دیتا ہو، ان کی تعلیم مہذبiet اور اخلاقیات سیکھنے کا وقت اور جگہ نہیں لینا چاہئیے، یہ تو وہی کام ہے جو پہلے کی نوجوانوں کو کیا جاتا تھا۔

سوشل میڈیا کے ہاتھ میں اسمارٹ فون اور ٹی وی چینل بے بی بومرز بنتے ہیں، انھیں انسانی سمجھ کو کم کرکے لاتے ہیں، لوگ اپنے بچوں سے الگ رہتے ہیں اور ان کا سننا نہیں چاہتی۔

بچوں کو ہوش و عقل سے لادھ کر ان کی بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنے دیتے ہیں، اس لیے آپ انھیں اپنی فطرت کی وجہ سے زیادہ پریشانی نہیں آتی بلکہ ان کی خواہش اور ہمت سے وہ محفوظ محسوس کرتے ہیں، اس لیے آپ انھیں ایسی situations میں دیتے ہیں جہاں ان کی بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔
 
بچوں کو اس وقت تعلیم اور تعلیمی ماحول ملتا ہے جب وہ بھوک اور افلاس کی زندگی میں رہتے ہیں؟ یہ سب کچھ سوشل میڈیا کا نتیجہ ہے جو لوگوں کو غدر اور بدتمیزی کی طرف مائل کرتا ہے۔

لوگ اپنے بچوں سے الگ رہتے ہیں اور ان کا سننا نہیں چاہتی ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ وہ نئے طوفان بدتمیزی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

بچوں کو اپنے تجربات اور بڑوں سے ملنے کا موقع دینا چاہئیے تاکہ وہ اپنی جگہ سمجھ سکیں اور اپنی زندگی میں اچھی طرح پڑوا لیں۔
 
واپس
Top