ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے درجنوں تجارتی جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں سے باہر احتیاط کے ساتھ لنگر ڈال دیا ہے۔ اس میں شپنگ ذرائع کی جانب سے یہ کہنا شامل ہے کہ ایران میں جاری احتجاج اور امریکا کے ساتھ بڑھتے تناؤ کے باعث جہاز مالکان کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کی وجہ سے ایسے جہاز ان علاقوں کو چھوڑ کر باہر ہی رک گئے ہیں۔
ایران اپنی درآمدات کے لیے کارگو، کنٹینر اور جنرل کارگو جہازوں پر انحصار کرتا ہے، جب کہ تیل کی برآمدات آئل ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں ایک اور اہم مोडّے کی ضرورت ہو رہی ہے، جبکہ ایران میں بھی پھیلتے ہوئے امریکی فوجی اہلکاروں کو ایسا کچھ نہیں مل سکا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے منصوبوں میں رک گئے ہیں۔
اس صورتحال میں ایک اور بڑا حوالہ ملتا ہے، جس کے مطابق Iran میں پھیلتے ہوئے امریکی بحری جہازوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ اپنے منصوبوں کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے بعد Iran سے باہر اپنی فوجی کارروائیوں میں اور بھی اضافہ دیکھنا پڑگا۔
ایران اپنی درآمدات کے لیے کارگو، کنٹینر اور جنرل کارگو جہازوں پر انحصار کرتا ہے، جب کہ تیل کی برآمدات آئل ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں ایک اور اہم مोडّے کی ضرورت ہو رہی ہے، جبکہ ایران میں بھی پھیلتے ہوئے امریکی فوجی اہلکاروں کو ایسا کچھ نہیں مل سکا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے منصوبوں میں رک گئے ہیں۔
اس صورتحال میں ایک اور بڑا حوالہ ملتا ہے، جس کے مطابق Iran میں پھیلتے ہوئے امریکی بحری جہازوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ اپنے منصوبوں کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے بعد Iran سے باہر اپنی فوجی کارروائیوں میں اور بھی اضافہ دیکھنا پڑگا۔