سعودی عرب، عمان اور قطر کا امریکا کو ایران پر حملے سے باز رہنے کا مشورہ

سائبر ساتھی

Well-known member
سعودی عرب، عمان اور قطر نے امریکہ کو ایک خطرناک ایران سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس بات کی واضح فحول ہے کہ अगर امریکہ ایران پر فوجی حملے کرتا ہے تو یہاں تک کہ تیل کی قیمتوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، اور اس سے امریکی معیشت پر بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکی صدر کے سامنے ایران کی جانب سے دوسرے ممالک میں کشیدگی کو روکنے کے لیے ایک مشورہ دیا گیا ہے، جس میں اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے ایسے آپشنز پر غور کیا جائے گا جو ایران کے اندر ممکنہ اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات طلب کرنے کے ساتھ ساتھ سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہوں گی۔

امریکی صدر نے اپنی جانب سے Iran پر فوجی حملے کرنے کا ایک خطاب دیا ہے جس میں انھوں نے ایرانی مظاہرین کو ڈٹنا اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنا سمجھایا ہے۔

خلیجی ممالک کا بھی ایسا ہی مشورہ دیا گیا ہے جس سے وہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر اس صورتحال میں ان کی جان کو خطرہ تھمایا گیا تو اسے امریکہ نہ صرف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کرے گا بلکہ ہر طرح کے حملوں سے بھی ان کو باز رہنا چاہیے۔

چین، روس اور ترکی کے وزیر خارجہ نے امریکہ کو ایران پر فوجی حملوں سے باز رہنے کی تاکید کی ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے، اور حال ہی میں مظاہرین کو ہتھیار تقسیم کرنے کی واضح فحول ہیں۔
 
امریکہ کو اس صورتحال پر توجہ دینا چاہیے، ایران کے ساتھ ساوधناقصت کے بین ہونے پر یہ خطرناک بن گیا ہے۔ اور خلیجی ممالک نے بالکل دوسرے درجے پر امریکی معیشت کے لئے تیل کی قیمتوں میں اٹھوا دے سکتے ہیں! وہ لوگ جو کہیں گم ہوں یا غلطی کا مرتکب ہوں، ان کو اپنے کام کے لئے ذمہ دار سمجھنا چاہیے
 
امریکی صدر کا ایران پر حملے کرنے کی تاکید ایک مشکل صورتحال کی جانب دیکھنا ہو گی۔ اگر امریکہIran پر حملے کرتا ہے تو یہاں تک کہ تیل کی قیمتوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، اور اس سے امریکی معیشت پر بھی نقصان پہنچ سکتا ہے.

ایران کی جانب سے ایران کے اندر ممکنہ اہداف کو سمجھنے کے لئے ایسے آپشنز پر غور کیا جائے گا جس میں ایران کے اندر انٹیلی جنس معلومات طلب کرنا، سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہوں گی.

خلیجی ممالک نے بھی ایسا ہی مشورہ دیا ہے کہ اگر اس صورتحال میں ان کی جان کو خطرہ تھمایا گیا تو اسے امریکہ نہ صرف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کرے گا بلکہ ہر طرح کے حملوں سے بھی ان کو باز رہنا چاہیے.

چین، روس اور ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی امریکہ کو ایران پر حملوں سے باز رہنے کی تاکید کی ہے، جس میں یہ بات ابھی بھی ہے کہ جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے ایران تیار ہے.

امریکی صدر کا یہ خطاب Iran پر فوجی حملے کی تاکید سے اس صورتحال میں تیزاب لگایا گیا ہے. اگر اس صورتحال کو حل نہ کر لیا جائے تو اس میں بھی ایسے آپشنز پر غور کیا جائے گا جو Iran کے اندر انٹیلی جنس معلومات طلب کرنے، سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہوں گی.

امریکی صدر کو ابھی بھی اس صورتحال میں ایسے آپشنز کو سمجھنا ہو گا کہ Iran کے اندر انٹیلی جنس معلومات طلب کرنا، سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہوں گی.

ایران کی جانب سے اس صورتحال میں ایران کے اندر ممکنہ اہداف کو سمجھنے کے لئے ایسے آپشنز پر غور کیا جائے گا، جس میں Iran کے اندر انٹیلی جنس معلومات طلب کرنا، سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہوں گی.
 
امریکہ کو ایک خطرناک ایران سے باز رہنا ہوتا ہے نہیں بلکہ خود Iran کو اس صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پر فوج کھیلنا چاہیے؟ پھر نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک اور دیگر دنیا بھی اس کو اپنی منڈی میں مدد کرتے ہیں تو یہی واضح نہیں ہوتا کہ Iran کے مظاہرین ایسے رہتے ہیں جیسے وہ آخری فوجی حملے سے پہلے بھی ہوں؟ یہ بات کہیں تو یہی نہیں کہ پوری دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو اور ایک دوسرے پر انحصار کرنے کی روایت رکھتے ہیں، یہے نہیں کہ خود Iran کو ایسا سے نمٹنا چاہیے جو اس کی اپنی صلاحیتوں پر بلی بلا دے؟
 
ایسے بھی ممکنہ ہے کہ ایران کا یہ اقدامہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا کرنے سے محروم نہیں رہگا، ان لوگوں کو جو ہمیشہ کہتے آئے تھے کہ ٹیکسٹائل اور کپڑے ایران کی جانب سے کیے جاتے ہیں، وہ اب اس طرح کے ہون گے؟
 
یہ بات تو واضع ہو چکی ہے کہ امریکہ کی انٹیلی جنس کو بہت ہی موثر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ آگے آئے وقت ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑے جو ابھی تو ابھری ہوئی ہیں۔ اگر وہ معیشت پر اثرانداز نہ ہوں تو اس سے پورا خلیج اور یورپ بھی متاثر ہوگا، ایسا کرتے ہوئے انہیں اپنی فوجی تاکیدوں پر مزید غور کرنا چاہیے، کوئی نہ کوئی منصوبہ کھو دیتا رہے گا!
 
امریکی صدر کے سامنے ایران پر فوجی حملے کرنے کا مشورہ دیتے وقت انھوں نے تھوڑی سا فکر کیا ہے کہ 10 سال قبل اس بات کی واضح فحول تھی کہ ایران کا پمپ مین ایک کبھی جاتا تھا اور اب انھوں نے کوئی ایسا کیا ہے جس سے صدر ایون پر اپنے دھن کی تاکید کر سکے؟
خلیجی ممالک نے بھی ایسا ہی مشورہ دیا ہے جو 20 سال قبل امریکی صدر کے سامنے دیا گیا تھا جب اس وقت ایران کو کوئی یوگوسلاویہ جیسا عالمی معزز نہیں سمجھا جاتا تھا.
اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے امریکی صدر کو ایسے آپشنز پر غور کرنا چاہئے جو سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہوں گے تو کہ اس صورتحال میں اس کو ایک رامز کے دور میں لگائی جاسکے؟
 
عثمانی صدر کے اس خطاب سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مظاہرین کو ڈٹنا اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی تاکید کرتے ہوئے امریکی فوجی حملوں میں بھگتے ہوئے تیزاب کی پوری کہانی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ میں ساتھ نہیں دلوئے جائے گا اور تیزاب کی پوری کہانی صرف خود کو ایک ایسا مظاہرہ بنانے میں مدد کرتا ہے جو انھیں سچائیوں سے دور رکھتا ہے
 
ایسے ٹکرانا ہوا کہ السعودية، عمان اور قطر ایک خطرناک ایران سے باز رہنا چاہتے ہیں؟ یہ تو تو یہ بات تھی جو سب کے لئے واضح ہے۔ امریکی صدر نے Iran پر فوجی حملوں کی طرف اشارہ کیا تو حال ہی میں سعودی عرب، عمان اور قطر نے بھی ایسا ہی مشورہ دیا تھا۔ لیکن یہ بات ٹھیک ہے کہ اگر امریکہ ایران پر فوجی حملے کرے تو اس سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس سے معیشتی نقصان بھی ہوتا ہے۔

خلیجی ممالک نے ایران کو دوسرے ممالک میں کشیدگی روکنے کے لیے ایسے آپشنز پر غور کرنے کی سنجیدگی دی۔ وہ اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے Iran کی جانب سے ممکنہ اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات طلب کر رہے ہیں، سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہیں۔ لیکن یہ بات ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔

چین، روس اور ترکی کے وزیر خارجہ بھی Iran پر فوجی حملوں سے باز رہنے کی تاکید کر رہے ہیں۔ اب یہ سوال ٹھیک ہے کہ ایران کا کیا رد عمل ہوگا؟ اور امریکہ کا یہ ردعمل کس طرح پائے گا؟

امریکی معیشت پر تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کی صورت میں یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ ایران کا سدھا تعلق کیسے رہے گا۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ Iran ایک متحرک ممالک سے بھرپور دباؤ میں ہے جو تیز رفتار بدلتے ہیں۔
 
امریکہ کے ساتھ ایران کا بہت مشق لگتا ہے، پہلے اورتیرو نے اس کا مشورہ دیا کیونکہ وہ یقین دلاتا ہے کہ اگر آمریکہ ایران پر فوجی حملے کرے تو یہ خلیجی ملکوں کو تیل کی قیمتوں میں بھی زیادہ اتار چڑھاو لگا دے گا...
 
ایسا دیکھو، اگر अमریکی صدر Iran پر فوجی حملے کرتا ہے تو اس سے ایک نئی معیشتی بحران پیدا ہوگا اور پیداوار میں کمی آئے گا؟ اور یہ بات بھی کہIran کے مظاہرین کو دھمکایا گیا ہے تو اس سے وہ ان کی حریت کو محسوس کریں گے اور اپنی حکومت کی مخالفانہ توجہ کا ایک نئا مرکز بن جائیں گے? چینی، روسی اور ترکی کے وزیر خارجہ بھی Iran کے ساتھ انٹیلی جنس شریک ہونے کو دیکھ رہے ہیں؟ یہ بات تو صاف ہے کہ اگرچہ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے لیکن اس سے معاشی نقصان اور سیاسی مظاہر کی لہر کھڑی ہوگی?
 
امریکہ کو ایران پر حملے کے امکانات سے پوری دنیا گریفیٹ ہوئی ہے، لیکن یہ بات کوئی بھی نہیں جانتا کہ اگر اس صورتحال میں دھماکہ ہوتا تو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور معاشی نقصان سے بچنا کس طعم لے گا؟

اس بات کو یقین دیجئے کہIran کی جانب سے کشیدگی کو روکنے کے لیے ایک مشورہ دیا گیا ہے جو Iran کے اندر موجود معلومات کو سمجھتے ہوئے ایسے آپشنز پر غور کیا جائے گا جس میں سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہیں، کیونکہ Iran کے پاس اس صورتحال کو روکنے کے لیے کافی صلاحیت ہے۔
 
ایسے تو حقیقتا ایک خطرناک صورتحال ہو رہی ہے، ایران میں بھی اور باقی دنیا میں بھی اس سے نکلنا مشکل ہوگا
 
اس صورتحال کا یہ مشورہ بہت خطرنا ہوگا۔ امریکی معیشت کی وہ تلاقی جو Iran پر حملے سے ہوتی ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ Iran کو ڈٹنا اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنا بھی نہیں تھمایا جائے گا، بلکہ اس کے اندر سے کچھ اہداف کو سمجھ لیں اور پابندیاں لگائیں تو پوری دنیا میں یہی ہو گی۔ China، Russia اور Turkey کی بھی یہ جان کر تاکید کی جا رہی ہے کہ Iran پر حملے نہ کریں، لیکن کیا اس کو سمجھنے کا وہمہ ہوا گیا ہے کہ اگر ایران جنگ میں جائے تو China اور Russia US کی مدد نہیں دیکھیں گی؟
 
🤦‍♂️ یہ صورتحال تو بہت خطرنا ہوگی اور اس پر فوجی حملہ کرنا ایسا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک بڑے مقابلو کو جنم دے گا اور تیل کی قیمتوں میں بھی بڑی تبدیلی آئے گی، اس لئے اس صورتحال سے قبل پہلے ہی کچھ مشورے دیے جا چکے ہیں جس میں ایران پر ایسے آپشنز کی فہرست بنائی گئی ہے جو اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے کچھ اہم معلومات طلب کرتی ہیں جیسے سائبر حملوں اور نئی پابندیاں شامل ہیں۔
 
اس صورتحال میں بہت سے غیر تھوڑے سمجھنا چاہیے. امریکہ ایران پر فوجی حملے کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ اپنے مقاصد کو حاصل کریں گے اور نتیجہ بھی دیکھ لیں گے. Iran کی جانب سے بھی ان میں پابندیاں شامل ہوں گی تو یہاں تک کہ تیل کی قیمتوں میں اور معیشت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں. یہ بات واضح ہے کہ امریکہ کو ایسے آپشنز پر غور کرنا چاہیے جو ایران کے اندر ممکنہ اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات طلب کرنے کے ساتھ ساتھ سائبر حملوں اور پابندیاں شامل ہوں گی. ~🤔
 
اس صورتحال سے کچھ نتیجہ نہیں ہوگا؟ امریکہ ایران پر فوجی حملے کرنے کا خیال کیا پورا جائے گا؟ یہ بات بہت محسوس ہوتी ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے تو اس سے معیشت پر بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، نہ ہی یہ دوسرے ممالک کو بے امانہ کیا جائے گا۔ چینیہ، روسیہ اور ترکی نے امریکہ کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں سے باز رہنے کی تاکید کی ہے تو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ کیا اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے بہتر نتیجہ حاصل ہو گا؟ ہم ایک ایسا مشورہ دیکھ رہے ہیں جس سے ایران میں پابندیاں لگائی جائیں گی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مظاہرین کو ڈٹنا چاہیے، اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنا سمجھایا جائے گا۔
مگر یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے ہونے والے کشیدگی کو روکنے کے لیے اس طرح کا مشورہ دیا گیا ہے، جو کہ بہت متعصبانہ اور تاریک ہوتا ہے۔
اس کھلا خطرہ کو انہوں نے توازن حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ کیا اس طرح سے نتیجہ نہیں ہوگا؟
 
یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے، ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف ایران... یہ بات پوری طور پر واضح ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بھی کوئی تبدیلی آ سکتی ہے جب یہاں تک کہ امریکہ اس صورتحال میں ہلچل پھیلاتا ہے...

تہذیبی جنگوں میں بہت سے لوگ اچھے نتیجے کی پوری خواہش کرتے ہیں، لیکن اس صورتحال کو حل کرنے کا ایک آسان طریقہ نہیں ہے...

یہ بات بھی اچھی ہے کہ خلیجی ممالک نے امریکہ سے ایسا مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود میں ہی رہ کر ہمیں نئے حملوں سے بھگتے...

چین، روس اور ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی امریکہ کو ایران پر فوجی حملوں سے باز رہنے کی تاکید کی ہے، یہ بات پوری طور پر واضح ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس صورتحال میں بھی کوئی حل نہیں مل سکتا...
 
واپس
Top