امریکہ کا موازنہ کرنے والا ایک ادارہ ’گلوبل فائر پاور‘ نے 2025 کی مڈل ایسٹ رینکنگ میں ایران کو مشرق وسطیٰ میں تیسری بڑی فوجی قوت قرار دیا ہے اور دنیا میں عسکری لحاظ سے 16 ویں بڑی طاقت قرار دیا ہے، جہاں اس کی آبادی 88 ملین سے زیادہ اور فعال فوجی عملے کی تعداد 60 لاکھ 10 ہزار ہے۔ ان کے پاس 551 طیارے ہیں جس میں سے 113 لڑاکا طیارے ہیں اور 1713 ٹینک ہیں، جو کہ دنیا کی اس فوجی طاقت کے لیے بھی بہت ہی عظیم ہے۔
ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ نے لاکھوں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے پر ایک بار پھر دھمکی دی ہے، اس طرح ایران کے پاس جس سے ملنے والے تمام متعلقہ تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکے گا اس کی جانب سے توفیق کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اِس صورتحال میں دھمکیاں دیا ہے کہ اگر امریکہ اس پر حملہ کرے تو ایران کے اس علاقائی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا جو مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں اور یہاں تک پھیلے ہوئے امریکی فوجی اڈوں کے لیے بھی مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس سے متعلقہ ممالک کو یہ جاننا چاہیے کہ اگر یہ حملہ کیا جائے تو ان کے لیے بھی اپنی جانوں اور اپنے ملکوں کی سلامتی پر خطرہ ہوگا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کے روز ایرانی مظاہرین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے ایک بار پھر امریکی مداخلت کا عندیہ دیا ہے اور اس پر یہ بتایا ہے کہ اگر ایسا ہو جائے تو وہ حملے کے نتیجے میں خطے سے باہر نکلے گئے۔
ترک میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ترک ہم منصب کے دوران دو بار رابطہ ہوچکا ہے جس سے امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کے کئی اہلکاروں کی جانب سے حملے کی دھمکیوں پر ردِ عمل ظاہر ہوا ہے۔
ایران نے خطے میں امریکی فوج کے موجودگی پر آزاد رہنے والے ممالک کو باضابطہ طور پر جانب دوا دیا ہے کہ اگر Iran پر حملہ کیا جائے تو ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کی جان بھی مار دی جائے گی، اس صورتحال میں ان ممالک کو ضروری ہے کہ وہ اپنے ملکوں کی سلامتی اور ملکوں کے لیے امریکی حملوں سے روکنے کا اہل کار بن جائیں۔
دنیا میں موجود تمام طاقتوں کا موازنہ کرنے والے ’گلاوبل فائر پاور‘ نے 2025 کی مڈل ایسٹ رینکنگ میں ایران کو مشرق وسطیٰ میں دوسری بڑی فوجی طاقت قرار دیا ہے، اس کے بعد پاکستان اور برازیل ان میں رکھ گئے ہیں۔
ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ نے لاکھوں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے پر ایک بار پھر دھمکی دی ہے، اس طرح ایران کے پاس جس سے ملنے والے تمام متعلقہ تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکے گا اس کی جانب سے توفیق کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اِس صورتحال میں دھمکیاں دیا ہے کہ اگر امریکہ اس پر حملہ کرے تو ایران کے اس علاقائی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا جو مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں اور یہاں تک پھیلے ہوئے امریکی فوجی اڈوں کے لیے بھی مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس سے متعلقہ ممالک کو یہ جاننا چاہیے کہ اگر یہ حملہ کیا جائے تو ان کے لیے بھی اپنی جانوں اور اپنے ملکوں کی سلامتی پر خطرہ ہوگا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کے روز ایرانی مظاہرین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے ایک بار پھر امریکی مداخلت کا عندیہ دیا ہے اور اس پر یہ بتایا ہے کہ اگر ایسا ہو جائے تو وہ حملے کے نتیجے میں خطے سے باہر نکلے گئے۔
ترک میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ترک ہم منصب کے دوران دو بار رابطہ ہوچکا ہے جس سے امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کے کئی اہلکاروں کی جانب سے حملے کی دھمکیوں پر ردِ عمل ظاہر ہوا ہے۔
ایران نے خطے میں امریکی فوج کے موجودگی پر آزاد رہنے والے ممالک کو باضابطہ طور پر جانب دوا دیا ہے کہ اگر Iran پر حملہ کیا جائے تو ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کی جان بھی مار دی جائے گی، اس صورتحال میں ان ممالک کو ضروری ہے کہ وہ اپنے ملکوں کی سلامتی اور ملکوں کے لیے امریکی حملوں سے روکنے کا اہل کار بن جائیں۔
دنیا میں موجود تمام طاقتوں کا موازنہ کرنے والے ’گلاوبل فائر پاور‘ نے 2025 کی مڈل ایسٹ رینکنگ میں ایران کو مشرق وسطیٰ میں دوسری بڑی فوجی طاقت قرار دیا ہے، اس کے بعد پاکستان اور برازیل ان میں رکھ گئے ہیں۔