اقرارالحسن اپنی سیاسی جماعت کا نام اور جھنڈا سامنے لے آئے

ہاکی پلیئر

Well-known member
’اقرار الحسن‘ نے اپنے ایک بیان میں ’سرِعام فلاحی گروپ‘ کے سربراہ نے ایک نئی سیاسی جماعت ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کی قیام پر اعلان کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحریک عوام کی ملکیت ہو گی اور پاکستان کو ایسی جمہوریت بنائی جائے گئی جو اپنے نظام کی حقیقی تبدیلی میں مصلح ہو۔

’پاکستان عوام راج تحریک‘ کا مقصد صرف ایک فرد یا خاندان پر قائم نہیں، بلکہ اسے پاکستان کے عام شہری اور وہ ہوتے جس کی ملکیت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہPolitics کو ایک اچھی جماعت یا ادارہ میں تبدیل کرنا چاہئے، جتھے عوام اپنے حقیقی اختیار کا مظاہرہ کر سکے۔

اقرار الحسن نے پچیس سال سے سیاست میں رکھی ہوئی اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی اہلیت یا عہدے کو چاہنے سے انکار کر رہے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ فکری کام کی ضرورت ہے، نہ کوئی سیاسی یا سرکاری عہدہ کا مطالبہ۔

انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا تھا کہ”چونکہ ہم ’فوجی راج‘، ’بھٹو راج‘ اور ”خان راج“ دیکھ چکے ہیں لیکن اب اس ملک میں ”عوام راج“ ہو گا “۔

’پاکستان عوام راج تحریک‘ کی تحریک کو ان نے ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کے نام سے ظاہر کیا ہے اور اس پر دعا کرتے ہوئے کہ اللہ اس تحریک کو پاکستان کے حق میں بہتر کرے۔
 
اس نئی جماعت کا مقصد دیکھتے ہی ایک ایسے معاشرے کی طرف نظر مگر وہ معاشرے میں بھی ان لوگوں کی موجودگی اور ان کو دیکھنا تو مشکل ہی پوچھتا ہے، کچھ لوگ یہ تھوڑا سا ہی دیکھ کر چلے جاتے ہیں، ایسے میں وہ معاشرے نہ تو بنے گئے اور ان کے بھی ہتھوں پر ہی اس بات کو دیکھنا پوچھتا ہے.

ایسا لگتا ہے کہ یہ تحریک صرف ایک جماعت کی طرف توجہ دی جا رہی ہے، لیکن یہ یقینی نہیں کہ اس معاشرے میں وہ لوگ موجود ہوں گے جو انھیں اچھا سمجھتے ہیں، یہ ایک جہت کی بات ہے نہ کوئی ایسا معاشرہ بنے گا جس میں وہ لوگ موجود ہوں گے جو انھیں اچھا سمجھتے ہیں.
 
چل چلو! ان لوگوں نے ’پاکستان عوام راج‘ کی تازہ ترین تحریک کو دیکھا ہے اور اب وہ ”عوامی راج“ لاکھتے ہیں ہاں، کیا ہر کسی نے ایسی جگہ ہمیشہ سے دیکھا ہوتا ہے؟ اور ان کا ’مقصد‘ صرف یہ ہی کہ ملک کو ایسی جمہوریت بنائی جائے جو اس نظام کی حقیقی تبدیلی میں مصلح ہو؟ نہ ہوا وہ ہمیشہ سے دیکھنا چاہئیں، اور وہاں کھیلنے کا کام بھی چاہئیے!
 
یے تو یہ بات ایک جانب سے آئی ہے کہPolitics میں کسی نے بھی اس طرح کا لہر لگایا ہو، اور اب کہتے ہیں کہ عوام کی ملکیت ایسی جمہوریت بنائی جائے گی جو اپنے نظام میں تبدیلی لائیں گے۔ یہ تو عجیب ہے کہ اگے بھی چلتی رہے، کیوں کہPolitics میں اچھے لوگوں نے کیا وہی آپریشن کر سکتے ہیں۔
 
یہ بات بالکل صاف ہے کہ سیاست کو ایک اچھی جماعت میں تبدیل کرنا چاہئے، جتھے عوام اپنے حقیقی اختیار کا مظاہرہ کر سکیں۔ Politics کو ایسا بنانا چاہئے جہان اس کے رکن ایک دوسرے کے برائے تھے نہیں، وہ ملک کی ملکیت ہوں۔
 
یہ سچ ہے کہ Politics کو ایک اچھی جماعت یا ادارہ میں تبدیل کرنا چاہئے، جتھے عوام اپنے حقیقی اختیار کا مظاہرہ کر سکے. 45 سال سے Politics میں رکھی ہوئی آقرار الحسن نے بات کہا کہ وہ کسی اہلیت یا عہدے کو چاہنے سے انکار کر رہے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیڨ کہ فکری کام کی ضرورت ہے. میں نہیں سوچتا ہوگا کہ اس تحریک کو بھی ایسے حالات میں اچھی سے بنایا جائے گا جتھے عوام ایک اور معاملہ ہوگا۔
 
یہ تھوڑا بھی حقیقت ہے کہ عوام کی ووٹز پر politics بننے سے Politics ko pura badal sakta hai. اور یہ تحریک پاکستان کو ایسی جمہوریت میں لانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں عام شہری اپنا حق ووٹ کرتے ہیں۔ اور اقرار الحسن نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہPolitics ko pure badal sakte hai. 🤝
 
اس جمہوریت کا مقصد پورا کرنے کے لیے ہم کو پہلے اپنی سمجھوں اور مظاہرے کی ضرورت ہے.Politics میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے جیسا کہ فیکلٹی میں، یہ رائے پر مبنی تھوڑی سوشل مीडیا پوسٹ پڑھ کر بھی اچھی لگ رہی ہے
 
اکرار الحسن کی یہ واضح بات دیکھتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام اپنے حق میں آئیں اور اپنی ملکیت پر غور کریں۔ میرے خیال میں یہ بہت اچھا واضح مطالبہ ہے، لہٰذا چاہئیں کہ عوام اپنے حق کی طرف توجہ دیکھیں اور politics کو ایک اچھی جماعت یا ادارہ میں تبدیل کرنا شروع کریں۔ ہمارے ملک میں politics ایک ایسا مظاہرہ بن سکتا ہے جتلا عوام اپنے حقیقی اختیار کا مظاہرہ کر سکیں۔ اور یہ بات بھی نہیں کہ کسی ایسے شخص کو politics میں شامل ہونا چاہئے جوPolitics میں اچھا رہتا ہو۔ ہم سارے ملک میں politics کو ایک اچھی جماعت یا ادارہ کے طور پر دیکھنا چاہئیں۔ ہمارے ملک میڰ politics ہے، لیکن یہ politics ایک اچھی جماعت کی طرح نہیں ہو سکتی۔
 
یہ تو آپ کو یقین نہیں ہوگا کہ ہم نے پچیس سالوں سے اس بات پر زور دیا تھا کہ بھر میٹھا، مفت، عام لوگوں کا حصول، ان کے حق میں ہی چلنا چاہئے۔ اسی لیے ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کی تحریک میں نے یقین کیا ہے اور اس پر دعا کروں گے کہ اللہ اس کو بہتر کرے۔

ایسے ’راج‘ کے نظام سے کھٹکھٹے اور پلوں کا بھی نہ ہوگا۔ میں ہمیشہ کہتا آیا تھا کہ سیاسی جماعتیں اس میں ان کا حق سے نہیں چل رہیں، اور اب جب ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کی تحریک ہوگئی تو یہ ایک اچھی بات ہے۔
 
یہ تحریک ایک بڑا کارنامہ ہوگا اگر یہ لوگ سچائی کے قائل ہوں اور ایسی جمہوریت کی طرف بڑھتے رہن، جس میں عوام کی حقیر پالیسی بنے اور Politics کو ایک اچھی جماعت یا ادارہ میں تبدیل کرنا چاہئے۔ میری رائے ہے کہ اس تحریک کو دیکھنے کی لوجIZ ہے اور پوری دنیا کو دیکھنے کی لوجیز کے ساتھ اس نے اپنی بات کو منظم کیا ہے.

اس تحریک کو دیکھتے رہنا چاہئیں اور ان لوگوں پر توجہ ڈالنی چاہئیں جو اس تحریک میں شامل ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ ایک نئی سوچ کے ساتھ آ رہے ہیں جو پاکستان کی آگہی کو بڑھانے میں مدد کا مظاہرہ کر رہے ہیں.
 
اس نئی جماعت کا مقصد تو کچھ interessant hai, یہ جماعت عام شہریوں کی ملکیت ہونے کا محور ہے، جو کوئی سیاسی party ya institution nahi ban rahi, balki اسے عوام اپنے حقیقی اختیار کر سکتے ہیں۔

اقرار الحسن کی باتوں پر دیکھا جائے تو وہ Politics ko transform karna chahte hain, jahan عوام apne haqiki makhloqat ka moshahara de sake. Pehle politics ko party ya institution me banaya karta tha, ab woh bata raha hai ki yeh chaahe koi individual ya family pe nahi, balki har waqt ke log jo pakistan ka shahri hain woh is movement mein shamil ho sakte hain.

Lekin question hai, yeh movement kaisa banega? Kya yeh real democracy banegi? Kuch time ka wait raha hai, abhi till ko nahi jaana jaa sakta hai.
 
یہ سچ منے کہ ہم ایک نئی سیاسی جماعت کا انتظار کر رہے ہیں جس کی بنیاد عوام پر لگی ہو اور اس میں لوگ اپنے حقیقی اختیار کا مظاہرہ کریں گے. پچیس سال سے سیاست میں رکھی ہوئی اقرار الحسن کی بات یہ ہے کہ وہ کسی اہلیت یا عہدے کو چاہنے سے انکار کر رہے ہیں، جو ایک بڑی تحول کی تجویز ہے. اس لیے یہ بات بھی یقین دہش ہے کہ وہ ’پاکستان عوام راج تحریک‘ کی تحریک کو اچھا سمجھ رہے ہیں۔
 
یہاں پھر یہ نئی جماعت کی بات آ رہی ہے جس کا مقصد کون سا ہے? وہ جو دیکھتا ہے اس کو دیکھنا چاہئے، ایک ایسا ملک جو عوام کی ملکیت ہو اور یہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ اس ملک کے سارے شہری پر ہوگا اور وہ ہو گا جو ملک کو بہتر بنانے کی Talwar ہوگا. پچیس سال سے سیاست میں رکھی ہوئی ان کے پاس بھی اس بات پر انٹیلی جنس ہے، وہ کسی اہلیت یا عہدے کو چاہنے سے انکار کر رہے ہیں اور ان کی بات یہی ہے کہ فکری کام کی ضرورت ہے نہ کوئی سیاسی یا سرکاری عہدہ.
 
یہ کام ناجائز ہو گا کہ انہوں نے یہ بات صرف ایک فرد پر قائم کی، عوام سے ملنے والی تحریک کو یہی مقصد دینا چاہئے اور اس میں کچھ معذور طبقے بھی شامل ہوں گے تو یہ دوسرے عہدے پر قائم ہوجائے گا۔ وہ لوگ جو عوام کے حوالے سے کام کر رہے ہیں ان کی جانب سے کوئی جھٹلائی نہیں کرنی چاہیے اور یہ کہنا کہ عوام سے ملنے والی تحریک صرف ایک شخص پر قائم ہوگی، یہ تو بھی ایک نئی جماعت بنائی جائے گی لیکن وہ لوگ جو عوام کو سمجھتے ہیں اور ان کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں انہیں بھی اپنے مقام پر رکھنا چاہئے.
 
عوام کی بات سے ہمیں خوشی ہوئی 😊، ایسا لگ رہا ہے کہ عوام کو ملک میں وہ چیز دیکھنا چاہئے جو اس کی ضرورت تھی، نہ تو ’فوجی راج‘، ’بھٹو راج‘، اور نہ ’خان راج‘ سے، بلکہ ’عوام راج‘ سے ہو گا۔ اس تحریک کے مقصد کو سمجھنا چاہئے کہ یہ لوگ صرف خود پر قائم نہیں ہوں گے بلکہ ملک کی ملکیت ہوں گے اور وہ ایسی جمہوریت بنائیں گی جس میں عوام کا حقیقی اختیار ہو।
 
ایس کی یہ بات سچمے تو ہم نے اسٹیٹ انکlearجس میں سیاسی جماعتیں اور ان کی رہنمائی کا شوق، وہ کیا؟ یہ بھی سچمے کہ ’سرِعام فلاحی گروپ‘ نے ایک نئی جماعت کی قیام پر اعلان کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحریک عوام کی ملکیت ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ اس نئی جماعت کو پھیلانے والوں کے لیے بھی ایسا چانس ہے جتنا ’پاکستان پیپلز پارٹی‘ کے عہدے پر تھا، اس وقت کی سیاسی تاریخ میں یہ کام کچھ اور مشکل ہو سکتا ہے…
 
یہ بات تو پتہ چل گئی ہے کہ اگلی بار عوام کی رائے سے کچھ فرق ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ جملہ میرے لیے کافی دلچسپ ہے کہ وہ تحریک عوام راج تحریک کی قیام پر اعلان کر رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہ تحریک عوام کی ملکیت ہو گی۔

میرے خیال میں ایسا تو نہیں تھا۔ وہ لوگ جنھیں politics میں رکھنا پڑتا ہے انھیں یہ بھی ملتا ہے کہ کوئی فرد یا خاندان پر قائم نہیں بلکہ عوام کی ملکیت یہ ہونی چاہیے۔

لیکن پچیس سال سے politics میں رکھنے والا اکرار الحسن کو اس بات کا اطمینان رکھنا چاہیے کہ وہ کسی عہدے یا اہلیت کو چاہنے سے انکار کر رہے ہیں۔
 
واپس
Top