پاکستانی ہسپتال میں ایک نایاب آپریشن: ’بغیر سر والا بچہ‘ نکال لیا گیا
پانچ سالہ پاکستانی بچے کے سینے سے ایک مکمل طور پر نہ بننے والا جنین کامیابی سے نکال لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سلطان اویسی نے بات چیت میں بتایا کہ پاکستان میں ’فیٹس ان فیٹو‘ ایک نایاب پیدائشی مسئلہ ہے، جو تقریباً پانچ لاکھ میں ایک بچے میں سامنے آتا ہے۔
پانچ سالہ پاکستانی بچے کا نام شاہد نہیں ہے جس کے لیے انہیں پیدائش کے بعد سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور بار بار بخار رہتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے شاہد کو ایک نایاب آپریشن دیا ہے جس سے وہ فوری طور پر بچے کے لیے سانس لینے میں مشکل سے بھاگتے تھے۔
یہ آپریشن سرجری کے دوران شاہد کی کٹنی میں ایک مکمل طور پر نہ بننے والا جنین نکالا گیا ہے جس کو ’فیٹس ان فیٹو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سلطان اویسی نے بتایا کہ یہ آپریشن دہلی میں ایک نایاب آپریشن تھا جس کے بعد شاہد بچے کی حالت بہتر ہوئی اور وہ سانس لینے میں آسان ہوگئے۔
شاہد کے والدین نے اپنے بیٹے کی صحت پر یہ آپریشن کرنے کے بعد بھرپور شکایت کی ہے اور انہوں نے شاہد کو ایک نایاب آپریشن دیا ہے جس سے وہ سانس لینے میں مشکل سے بھاگتے تھے۔
پانچ سالہ پاکستانی بچے کے سینے سے ایک مکمل طور پر نہ بننے والا جنین کامیابی سے نکال لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سلطان اویسی نے بات چیت میں بتایا کہ پاکستان میں ’فیٹس ان فیٹو‘ ایک نایاب پیدائشی مسئلہ ہے، جو تقریباً پانچ لاکھ میں ایک بچے میں سامنے آتا ہے۔
پانچ سالہ پاکستانی بچے کا نام شاہد نہیں ہے جس کے لیے انہیں پیدائش کے بعد سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور بار بار بخار رہتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے شاہد کو ایک نایاب آپریشن دیا ہے جس سے وہ فوری طور پر بچے کے لیے سانس لینے میں مشکل سے بھاگتے تھے۔
یہ آپریشن سرجری کے دوران شاہد کی کٹنی میں ایک مکمل طور پر نہ بننے والا جنین نکالا گیا ہے جس کو ’فیٹس ان فیٹو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سلطان اویسی نے بتایا کہ یہ آپریشن دہلی میں ایک نایاب آپریشن تھا جس کے بعد شاہد بچے کی حالت بہتر ہوئی اور وہ سانس لینے میں آسان ہوگئے۔
شاہد کے والدین نے اپنے بیٹے کی صحت پر یہ آپریشن کرنے کے بعد بھرپور شکایت کی ہے اور انہوں نے شاہد کو ایک نایاب آپریشن دیا ہے جس سے وہ سانس لینے میں مشکل سے بھاگتے تھے۔