تمام سے یہ واضح ہے کہ تولیپ صدیق نے اپنے وقت سے بھی زیادہ معاشی معاملات پر انتباه نہیں رکھا، اب جب ان کو چار سال کی قید دی گئی ہے تو وہ کیسے اس بات پر پھوکن گے کہ وہ انعامات کس لیے حاصل کر رہے تھے؟ ایک دوسرے نے بھی تولیپ صدیق کو سوالات لگائے تھے، اب یہ چاہے وہ خودی کی ہو یا سیاسی مظالم سے بچنے...