یہ تقسیم کیسے؟
دنیا کے نقشے پر لکیر ہمیشہ ایسی ہوتی ہے جتنا صدیوں سے محکوم انسانوں کے دلوں پرکھنچی ہوئی ہے۔ بیسویں صدی میں ہم نے یہ خواب دیکھا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی انسان کی مشقت کم کرے گی، جب عالمی منڈیاں وسعت اختیار کریں گے، جب صنعتیں محنت کشوں کے خون اور زندگی کو نچوڑنے کے بجائے...