اس لکیر کو کتنا سڑکے کی ڈاللی ہوا دیکھو... اب لوگ اس لکیر پر ایسے ہی ہیں جیسا صدیوں سے تھا، صرف یہ کہ اب وہی لاکھوں کو تھام کر رہے ہیں اور اس سے بھی ان کے دل پرکھنچی ہوئی ہے... یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ وہ لوگ جو اس لکیر کو بنانے والوں ہیں اب اپنی سستدستیوں پر انفرادی طور پر بیٹھ رہے ہیں، نہ تو...