امریکا سے کشیدگی پر درجنوں تجارتی جہاز ایرانی بندرگاہوں سے باہر رک گئے

تیندوا

Well-known member
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے درجنوں تجارتی جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں سے باہر احتیاط کے ساتھ لنگر ڈال دیا ہے۔ اس میں شپنگ ذرائع کی جانب سے یہ کہنا شامل ہے کہ ایران میں جاری احتجاج اور امریکا کے ساتھ بڑھتے تناؤ کے باعث جہاز مالکان کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کی وجہ سے ایسے جہاز ان علاقوں کو چھوڑ کر باہر ہی رک گئے ہیں۔

ایران اپنی درآمدات کے لیے کارگو، کنٹینر اور جنرل کارگو جہازوں پر انحصار کرتا ہے، جب کہ تیل کی برآمدات آئل ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں ایک اور اہم مोडّے کی ضرورت ہو رہی ہے، جبکہ ایران میں بھی پھیلتے ہوئے امریکی فوجی اہلکاروں کو ایسا کچھ نہیں مل سکا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے منصوبوں میں رک گئے ہیں۔

اس صورتحال میں ایک اور بڑا حوالہ ملتا ہے، جس کے مطابق Iran میں پھیلتے ہوئے امریکی بحری جہازوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ اپنے منصوبوں کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے بعد Iran سے باہر اپنی فوجی کارروائیوں میں اور بھی اضافہ دیکھنا پڑگا۔
 
ایران اور امریکا کے درمیان یہ تناؤ تو ہوتا رہتا ہے، لیکن اب وہ تجارتی جہازوں کی جانب سے ایسا محسوس ہونے والا حال تو ہوا بھی ہے؟ اس نئے تناؤ کے باعث اب تک سے نا گزارے ہوئے کارگو اور جنرل کارگو جہازوں کو اب ٹھکانا کرنا ہے اور ان کی ریکارڈریشن بھی ہوسکتی ہے؟
 
اس صورتحال میں ایران کو ایک اور تجدید کی ضرورت ہو رہی ہے، اس کے لیے وہ اپنی_EXPORT برآمدات کو زیادہ ترتیبات سے منظم کرنا چاہیے، جیسے کہ ایسے کارگو جہازوں کی قیمتی اور سیریز کی تعداد میں تبدیلی کی ضرورت ہے جو باہر نہیں آئیں، اس طرح ایران کو اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے اپنے تجارتی جہازوں کو مزید صارف بنانے کی ضرورت ہوگی۔
 
ایسا تو یقیناً ہوا ہے کہ ایران کی کس قدر تنگینہ صورتحال ہو رہی ہے، ایسی صورتحال میں کسی بھی ملک کی ایک فوجی کارروائی بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے...
مگر یہ بات تو واضع ہے کہ Iran کے جانب سے کوئی جسمانی کارروائی کی کوشش نہیں کی جا سکتی، پھر بھی وہ اپنے منصوبوں میں رک گئے ہیں...

ایسا تو ایران میں ایک بھرپور بحران کا پتہ چلنا ہوگا، اس صورتحال کی وجہ سے بھی ایران کے معیشت پر ناکام ہونے کی توجہ ہیں...
اس صورتحال میں Iran کو بھی ایک اور جسمانی کارروائی کا پتہ چلنا ہوگا۔
 
یہ بات ایک بار پھر پتہ چل رہی ہے کہ انٹرنیشنل ٹریڈ کو اس طرح سے ٹھوس نہیں لگتا ہے جو ایران اور امریکا کے درمیان ایسے تناؤ کی وجہ سے مل رہا ہے۔ جب بھی کسی جانبدار معاملے میں تناؤ پیدا ہوتا ہے تو ٹریڈ کے دوسرے حصوں پر بھی اس کی اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اور یہ بات تو واضع ہے کہ ایران میں انحصار زیادہ ہونے سے نتیجہ بھی ملتا ہے، جنوری میں اس صورتحال پر پہلی بار توجہ دی گئی تو ایک اچھا सवाल بھی تھا کہ کیا انفرادی کارگو جہازوں کی جگہ ایسے بڑے جہازوں کو لینا چاہئے جو ایرانی بندرگاہوں سے باہر ہی رک کر دیکھ رہے ہیں، یہ بات تو ایک معاملہ ہے لیکن اس پر پھر سے توجہ دی جائے تو اس میں بھی کیا فیصلہ اٹھایا جا سکتا ہے؟
 
ان ایرانی بندرگاہوں پر تنگ آنا ایک گہرا ماحول ہے… جس کے ساتھ ساتھ یہاں ایسے ٹیکنالوجیز کے استعمال اور وہاں کے تجارتی جہازوں پر بھی دباؤ کا اثر ہوتا ہے… پھر یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ایران میں امریکی بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں پر اپنی فوجی کارروائیوں میں بھی زیادہ کوشش کر رہے ہیں… جس کی وجہ سے اب Iran میں ایسی صورتحال پائی جاتی ہے جس سے کچھ لوگ افسرتیں کرتے ہیں…
 
ایسا تو ایک بڑا حوالہ ہے کہ Iran کو اپنے بندرگاہوں پر لاک ڈال کر تینھی کروانا پڑ رہا ہے، حالانکہ وہ خودIran میں بھی سٹریٹجک طور پر فوجی اہلکاروں کی موجودگی کو چھپانے کا ایسا ہی طریقہ تلاش کر رہا ہے جو अमریکہ کے لیے نہیں، اب یہ سوال ہے کہ Iran میں فوجی اہلکاروں کی موجودگی سے کیا لाभ ہوسکتا ہے؟
 
ایسا لگتا ہے کہ ایران کی بحری جہازوں کو ایک منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے جو ان حالات کو حل کرے، اس میں وہ اپنی فوجی اور بحری افواج کو متحرک کرنے پر توجہ دے سکتے ہیں، یہی نہیں بلکہ انہیں ایسے جہازوں کی تعمیر یا ماہرین سے مشورہ لینے پر بھی توجہ دینی چاہیے جو ان میں بہتری آئے کی وضاحت دے سکتی ہیں، اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک کے ساتھ اپنی منافقت کو کم کرنے پر توجہ دenusاں نہ ہوں۔
 
ایران کی ایسے جہازوں پر دباؤ تو ہوا ہی نہیں، جو اپنیIMPORTات کی ضروریات کے لیے لنگر ڈال رہے ہیں، اس کا کوئی فائدہ ان کے لیے نہیں، وہ سب ایک دوسرے سے بھگتی ہوئی جہازوں پر توجہ دی رہے ہیں.
 
ایسا نہیں ہو سکتا کہ Iran میں ایسے جہاز باہر رہ کر ان کی وضاحت کریں، ان تجارتی جہazoں کے مالکان کو تھوڑی سے سوشل میڈیا پر سمجھنا چاہئے کہ Iran اور America کے درمیان اس تناؤ کی وجہ سے ہی وہیں لنگر ڈال رہے ہیں! 😊

ایسے مظالم کو سمجھنے کی ضرورت ہے، Iran میں جو احتجاجات ہو رہے ہیں وہ کیسے چل رہے ہیں، America بھی اس کے ساتھ کیسے کام لگا رہا ہے! اس میں ایک اور حوالہ ملتا ہے کہ Iran کی جہاز مالکاری کو کس طرح دیکھتے ہیں، Iran کے بندرگاہوں پر دباؤ نہیں ہوتا! اس سے یہ سچ میں آتا ہے کہ Iran کی جہاز مالکاری کو ایک اور نظر سے دیکھنا چاہئے!

ایسے مواقع پر بے پنی نہیں ہوتی کہ آپ اپنے خیالات لگائے! 😊
 
ایسا لگتا ہے انٹرنیشنل مارکیٹز پر ایسے صورتحال کا ماحول اس وقت سے برقرار ہو گا جب اس کی وجہ سے تجارتی جہازوں نے احتیاط کے ساتھ لنگر ڈال دیا ہوتا ہے تو انہیں ایسے جہازوں کو بھی اپنے لئے پکڑنا ہوتی ہے جو اس وقت آرام سے کام کر رہੇ ہیں۔
 
بھی۔ یہ بات تو چلے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان کیا ہوتا رہتا ہے، لاکہ کہیں ایسا نہیں ہوتا؟ ہم تو اس بات پر Concentrate karte hain kiIran میں پھیلتے ہوئے امریکی بحری جہازوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، اور وہ اپنے منصوبوں کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لاکھ لاکھ فوری کی ضرورت ہے؟ 🤔
 
😕 ایران و امریکا کے درمیان یہ تناؤ ان کے درمیان ایک اہم مسئلہ ہے جو ساتھ ساتھ ایسے جہازوں کو بھی اپنے منصوبوں میں رکا ہے جن پر ایران کا معیشت انحصار کرتا ہے۔ Iran کے لیے اگر تیل کی برآمدات ہی کافی نہیں تو کیا وہ اور کیسے بھی اپنے منصوبوں کو یقینی بنائے گا؟
ایک ایسے صورتحال میں ابIran کے لیے اس جہازوں پر انحصار کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
 
اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے، یہاں تک کہ ہم اپنے ایپلز میں بھی نہیں رہتے، ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ سے جہازوں کو باہر ہونے پڑتے ہیں، ایسا نہیں لگتا کہ دنیا بھی ان دونوں کی طرف توجہ دی رہی ہے؟
 
ایسے جیسے ہوا تو وہاں کے ساسوں پر کچھ نہیں ہوتا ہے اور اب ایران کے لیے بھی یہ اچھا نہیں لگ رہا کہ وہ اپنی درآمدات کو منظم کرنے کی کوشش کریں۔ اس میں ہر شپنگ کنسولٹنٹ کو اپنی جگہ پر بننا چاہیے اور کسی بھی اہم جہاز کو ملک سے باہر نہ نکلنے دینا چاہیے۔ اگر وہ ایران کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں تو یہ کوشش کریں کہ اپنی درآمدات کو منظم کرکے اس صورتحال سے نکل جائیں.
 
ایسا لگتا ہے ایران اور امریکا کے درمیان اس تناؤ کی وجہ سے تجارتی جہازوں نے اپنی ایسی پوزیشن بنائی ہے جو ٹرپ کو کھونے والی دائمی فوجی کارروائی سے بچنے کا ایک منصوبہ ہو رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شپنگ ذرائع جن جہازوں کو باہر نکلایا ہے وہاں پر اپنے ٹریڈنگ منصوبوں کو جاری رکھ سکتے ہیں اور یہ ایسا بھی دیکھنا مشکل ہوگا کہ ایران میں کسی نئے فوجی ماحول کی وجہ سے ان تجارتی جہازوں کو واپس داخل کرایا جائے گا
 
ایسا لگتا ہے کہ ایران اور امریکا کی پuriyaan samajhna mushkil hai 🤔, sab kuch hai jo unke beech ke khilaf hai 🚫, lekin kabhi kabhi lagta hai ki inki riyasaton ko samajhna zaroori hai 💡, kyonki isse humein inki sambhavita carwaiyon ka pata chalta hai 🤝.

Iran ki tarha import ke liye bahut se jehazo mein reliance hai 🚚, aur yahan par bhi tension thi 😬, lekin lagta hai ki inki riyasaton ko ek dusre ki raksha karne ki zaroorat hai 🛡️. America ki tarha import karte samay bhi bahut se jehazo mein reliance hai 💸, aur yahan par bhi kuch changes hua hai 🔄.

Lekin yah sab kuch logon ke beech hi discuss hota hai 🤗, lekin lagta hai ki inki riyasaton ko ek dusre ki samajhne ki zaroorat hai 💡, taki humein is situation ka pata chal sake aur inki riyasaton ko samay par samjh saken 🕰️.
 
عصرتوں میں ایسے لمحے ہوتے ہیں جب سارے لوگ اپنی زندگی کو منظم کرتے ہیں لیکن اب پوری دنیا واپس دھیل گئی ہے اور تمام لوگ ایک دوسرے کی پائیداری میں رہنے کا عزم کرتے ہیں 😬 یہ جاننا کہ ایران میں بھی اس طرح کا احتجاج اور امریکا کے ساتھ تنाव ہو رہا ہے، میرا خیال ہے کہ ان کے لئے ایسا ہونا ضروری ہے نہیں؟ 🤔 اس صورتحال کی وجہ سے ایران میں بھی اپنی کارگو اور تیل کی برآمدات کو afect رہا ہے، اور اب ملک کے لئے ایک ایسا منصوبہ ضروری ہے جو اس صورتحال کو حل کر سکتا ہو، اس میں شپنگ کمپنیوں کی جانب سے ایسی پلیٹ فارمز کا انشاءہے جس پر ایران اور دوسرے ممالک اپنے کارگو اور تیل کی برآمدات کو لگا سکھیں 🚚
 
ایسے میں تو یقیناً ہے کہ اس تناؤ کے باعث تیزراباں پھنکی گئیں ہوں گی، انچارجز نہ رہتے تو اور ایسے جہازوں کو ابھی بھی مل کر باہر نکلنا پڑگا تھا۔ لیکن یہ بھی بات واضح ہے کہ ایران میں احتجاج اور امریکا کے ساتھ تناؤ میں اضافہ ہونے کے باوجود، جہاز مالکان کیا کر رہے تھے وہی؟ اب بھی ایران کو اپنی درآمدات پر انحصار کرنا پڑے گا اور اس کے لیے ایسے منصوبوں کی ضرورت ہو گی جو اسے ٹیکڑا نہ بنائیں۔
 
واپس
Top