Karachi: New list of active members involved in extortion prepared | Express News

خیالات

Well-known member
پولیس نے بھتہ خور گروہوں کے کارندوں پر مشتمل 15 رکنی فہرست تیار کی ہے جو پورے شہر میں دھکہڑا لگا رہی ہے۔

آج تک شہر میں گناہیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے پولیس نے ان ملزمان کو ذیل میں درج کیا ہے جو شہر میں دھکہڑا لگایا رہے ہیں اور جبکہ وہ بھتہ جمع کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

فہرست میں شامل ملزمان کا تعلق لیاری گینگ وار کے وسیع اللہ لاکھو اور صمد کاٹھیاواری گروہ سے ہے جس کی طرف سے انہیں دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔

فہرست میں خالد، ایاز، دانش، فہیم اور حنیف سمیت ایک ڈیرہ میں شامل ملزمان کو پولیس نے شام سے دھماکیاں بھی دیں جب کہ دیگر ناموں میں فیضان، شبیر، انیس، بلال اور عابد بھی ہیں جن پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث رہنے کی لکیر ہے۔

ان میں سے 10 ملزمان شام سے دھمکیاں بھی دی گئیں اور ان پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث رہنے کی لکیر ہے، جبکہ دیگر 5 ملزمان کو بھتہ جمع کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث رہنے کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

اس فہرست سے پورے شہر کو دھکہڑا لگنے سے بچانے کے لیے پولیس نے اس پر چھاپے مار رکھے ہیں اور جلد ہی ان ملzman کی grip پر پھنس لینے کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
 
میں سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ دھکہڑا لگایا جانا بھی ایسا ہی رہتا ہے جیسا اس کے بعد ہوتا ہے ، یہ بات سے پورا شہر بھریت ہو جاتا ہے اور ہر کیں اپنی فیکٹری پر مظاہرہ کرنا شروع کرتا ہے ، لیکن یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ پوری ملازمت میں سے ایک ملزم نہیں ہوتا ہے اور ان کی جان جاسوز ہو جاتی ہے ، میں سمجھتا ہoon کہ پوری شہر کو لاکھو اور صمد جیسے لوگوں سے محفوظ رکھنا مشکل ہے
 
میں یہ دیکھنا ہی نہیں چاہتا کہ پورے شہر پر دھکہڑا لگنے سے متعلق یہ بات یقینی ہو گی کہ وہ لوگ جو پہلے بھی گناہ کیا، اب اور جاری رہیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ پولیس نے صرف ایک چھوٹا حل تلاش کیا ہے۔ یہ دیکھنا میرے لئے پوری طرح اچھی نہیں کہ شام سے لوگ ان ملزمان کو دھمکیاں بھی دیں جبکہ وہ خود بھی ایسے ہی رہتے رہتے ہیں۔ مجھے یہ سمجھنے میں بھی کوئی اچھائی نہیں کہ اب شام سے لوگ ان ملzman کی طرف دھمکیاں بھی کر رہے ہیں۔
 
یہ فہرست صرف ایک چھوٹی جگہ کی چپکائی ہے، شام سے دھمکیاں بھی کی گئی ہیں۔ پوری صورت حال کے پیچیدے کو سمجھنا مشکل ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ شام سے دھمکیاں بھونے والے لوگ بھی اپنے گروپ کی جانب تو توجہ دیجے گئے ہیں لیکن نکلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس جیسا ہی ایک ساتھ دھمکیاں بھونے والے لوگ ابھی تو پورے شہر پر دھکہڑا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس فہرست سے بھی نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
मुझے یہ بات سے بات نہیں ہو سکتی کہ اگر ان ملزمان کو پکڑ لیا جائے تو وہ شام میں دھمکیاں بھی نہیں دیں گے؟

اس کے برعکس، یہ بات بھی سچ ہو سکتی ہے کہ اگر انہیں پکڑ لیا جائے تو وہ شام میں دھمکیاں نہیں دیں گے اور اس سے شہر میں دھکہڑا ختم ہو جائے گا.

دوسری جانب، یہ بات بھی محتمل ہے کہ ان ملزمان کو پکڑنے سے شہر میں دھکہڑا بھی ختم نہیں ہو جائے گا، بلکہ وہ شام میں بھی اسی طرح کی سرگرمیاں جاری رکھنگی.

لیکن، یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ پولیس نے ایسا کرنا چاہتا ہو گا کہ شہر میں دھکہڑا ختم ہو جائے اور ان ملzman کو اس کے لیے ذمہ دار سمجھایا جائے.
 
ایسا کیا ہوا پوری شام میں، یہ فہرست اچھی نہیں لگی، جو لوگوں کو دھمکیوں پر مجبور کر رہی ہے؟ police ko bhi dhang se samajhna hai ki kaise logon ka man hota hai, kya humein pata nahi lagta ki yeh ghar-bhar tak khiladiyain hain jo rasta band kar dete hain aur aage jana na sakte?
 
جب تک یہ دھمکیاں جاری ہوں گی تو شہر کو ایسا نہیں مل سکتا۔ اس فہرست میں شامل ملزمان کے نام بڑے گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی دھمکیاں لگاتारہی جاری رہتی ہیں تو یقیناً شہر کا دھکہڑا پھیل گیا رہیڒ…
 
یہ تو پوری شہر میں پھیلے ہوئے بھتہ خوروں کو دھمکیاں بھی دی گئیں اور اب یہ لوگ اپنے منصوبے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس فہرست میڰ نالوں کو پھنس لینے کا کام بھی کیا جارہا ہے اور پوری شہر کو دھکہڑا لگنے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہیں یہ لوگ اپنی سرگرمیوں کو پورے شہر میڈیا تک پہنچا دے رہے ہیں اور اب ان پر پولیس کے تھام کا مظاہرہ ہوتا جارہا ہے۔
 
یہ تو ایک مندرجہ کار فہرست ہے جو پوری شہر کو دھکہڑا لگایا رہا ہے اور اب وہ پولیس کے ہاتھوں کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے ان میں سے تقریباً سب کو ایک ہی چٹان سے تہاہ رکھ کر پھنسایا گیا ہوگا اور اب وہ جلاوطن ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ کیسے نجات مل سکے گا؟ شہر کو دھکہڑا لگایا رہنے والے لوگوں کے ساتھ اب بھی یہ بات بہت مشکل ہوگی کہ ان کے حقدار اور مراعات کیا جائیں گے یا نہیں؟ یہ پوری شہر کو دھکہڑا لگانے والے لوگوں کی جہالت سے بھی متاثر ہوا ہوگا۔
 
بہت سی گناہوں کے خاتمے کے بعد بھی ان لوگوں کو بھی دھکہڑا لگایا جاسکتا ہے؟ میں نہیں سمجھ سکا کہ ایسے حالات کی پیداوار کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ یہ گناہیوں کے خاتمے کا مطلب ہی نہیں، یہ دوسری चیز بھی ہو سکتا ہے۔
 
اس گروپ کے لوگوں کو پوچھو تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے دھمکاوٹ کے شائقین ہیں؟ ہم نے انھیں اور ان کی دھمکیوں پر کیا جواب؟ نہیں بھائی، پوری دنیا سے جب بھی کوئی دھمکی دیتا ہے تو ہم اس کا جواب ایک چپچپا سا جواب دیتے ہیں... "وہ کیسے?"
 
اس فہرست میں شامل سب کو گرفتار کر لیا جا سکتا تھا تاہم ان پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث رہنے کی لکیر ہی نہیں ہوگی اور شام سے دھمکیاں بھی کرنے والے سب کو آزاد واپس جا سکتے ہیں تو یہ شہر میں دھکہڑا دھڑکنے کاCause بن جائے گا۔
 
اس گروہوں کا ایسا سارہ سارہ کھیل چلا رہا ہے جو پورے شہر کو دھکہڑا لگاتا رہا ہے، اب ان پر پابندی لگانے کی بات ہو گئی ہے تو یہ سچا ہے کہ انہیں روکنا ہोगا۔ شام سے دھمکیاں بھی دی گئیں اور پھر ان پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث رہنے کی لکیر ہے، ایسے کے لیے ان پر کوٹ دبھانا ہو گا تو یہ بھی ہو سکتا ہے۔
 
اس فہرست میں شامل لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں اور ان پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث رہنے کی لکیر ہے۔ یہ بات بہت چिंتاجزاد ہے، آج بھی نہ صرف دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ فائرنگ کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں اور شام سے ملنے والوں کو بھی دھمکیاں دی جاتی رہتی ہیں۔ یہ کیا معقول ہے؟ پوری شہر میں دھکہڑا لگنے سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس نے آج اس فہرست پر چھاپے مار دیئے ہیں، لیکن دھمکیاں اور فائرنگ کی یہ رواج جاری رہے تو پوری شہر میں دھکہڑا لگ کر رہے گا۔
 
واپس
Top