چینی حکومت نے اپنے ملک میں مغربی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کر دی ہے جو کوئی بھی کمپنی نہیں استعمال کر سکتی، اس کے ساتھ ہی ان کی تمام کثیر ملکی سرگرمیاں ناقص بن گئی ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں جیسے براڈکام کی ملکیت والی وی ایم ویئر، پالو آلٹو، نیٹ ورکس اور فورٹ نیٹ سمیت ان کے سافٹ ویئرز کو استعمال نہ کرنے کے لیے چینی حکومت نے ہدایت کی ہے۔
اس معاملے پر غور شدہ ہوئیے، اس کا ایک اور مقصد یہ بھی تھا کہ ان سب سے ٹچ نہ ہونے کی کوئی بھی کوشش نہ کرے، جو کہ مغربی طاقتوں میں جاسوسی کا ایک محرک بنتے ہیں۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی اور سفارتی تناؤ کی صورت حال میں، یہ فیصلہ پورا کرتا ہے جو کہ چینی حکومت کو خاص طور پر مغربی ٹیکنالوجی سے اپنا مقابلہ کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور آرموری کھیزوں میں جاسوسی کی کوششوں سے بچ سکیں۔
یہ فیصلہ چینی حکومت نے ایک واضح رائے کو حاصل کرنے کے لیے لگایا ہے، جو اس وقت تک ہمیشہ سے موجود تھا جب یہ رائے میٹھی نہ ہو سکتی تھی۔
چین کے انٹرنیٹ ریگولیٹر سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن اور وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جو کہ یہ کامیاب فیصلہ تھا جس کے نتیجے میں چین اپنی مغربی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
اس معاملے کو دیکھتے ہوئے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین نے اپنی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کی اہمیت کو بہت زیادہ سمجھا ہے جس کی وجہ سے اس نے ان پر پابندی عائد کر دی ہے، جو کہ اپنے ملک میں ایک اور حیران کن مواقع پیدا کر رہی ہے۔
چینی حکومت کی یہ فیصلہ، مجھے توجہ دلاتی ہے کہ اب وہ اپنے سائبر سیکیورٹی کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کر سکتی ہیں، لہذا یہ سبھی کمپنیاں ایک دوسری کی طرح ہی کام کر رہی ہیں۔
چینی حکومت کی یہ کوشش، مجھے اس بات پر توجہ دلاتی ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کو بھی اپنے لئے کام کر رہی ہیں۔
لیکن یہ فیصلہ مجھے ایک حیران کن بات کی طرف دلاتا ہے کہ اب وہ ان ٹیکنالوجیز پر پابندی عائد کر سکتی ہیں جو ابھی بھی سوشل میڈیا پر کام کر رہی ہیں، جیسے اینسٹागرام اور فیسبوک۔
اس معاملے کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین نے اپنی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کی اہمیت کو بہت زیادہ سمجھا ہے، لہذا وہ ان پر پابندی عائد کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اس بات سے مجھے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگلا کیا وہ ان ٹیکنالوجیز پر بھی پابندی عائد کر سکتی ہیں؟
چینی حکومت نے مغربی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کر دی ہے، یہ دیکھنے میں بہت دلچسپ ہے کہ انہوں نے اپنی تمام وائرلز کو منسوخ کردیا ہے اور اب وہ صرف اپنے پلیٹ فارمز پر ہی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں، یہ معاملہ بہت جانتا ہے کہ مغربی ملکوں میں ہر کوئی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ چین کی پابندی کس طرح کام کرتی ہے؟
اس سے پہلے جب تین بڑی کمپنیوں نے اپنے ٹیکنالوجی کا استعمال چینی حکومت کے لئے ختم کردیا تھا، اب ان کی وائرلز کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، یہ بات دیکھنا مشکل ہے کہ کیا چین کے قائدین نے اس معاملے میں کسی بھی بھرپور جسادی ہوئی ہوگی?
چینی حکومت کی یہ فیصلہ لگتا ہے کیسے تھوڑا سا پرانا سایبر جنگ کے وقت کی بات کرتے ہوئے بھی توجہ دی جاسکتی ہے جو کہ چینی حکومت نے اس ساتھیوں کے ساتھ اس معاملے میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی جو کہ ایسے حالات میں بھی بھارتی اور روسسی کمپنیوں جیسے ایچ ایل ڈی اور یورالٹک کو استعمال کرنے لگے ہیں۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ چینی حکومت نے اس فیصلے سے اپنی ملکی معیشت کو ایک اور دھن میں لے کر دیا ہے، اس کے بعد بھی وہ اپنی ٹیکنالوجی پر اعتماد رکھ سکتے ہیں اور اپنے ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکta ہے
چینی حکومت نے مغربی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کر دی، یہ ایک بڑا فیصلہ ہے جو ان کی اور مغربی ممالک کی ترقی کے لیے ایک بڑی چیلنج بن جاتا ہے
اس معاملے سے پہلے، چین نے اپنی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کی اہمیت کو زیادہ سمجھ لیا تھا، جو کہ اس کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اب یہ معاملہ انکی سائبر سیکیورٹی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ان کی کوششوں کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے
اس فیصلے نے چین کے اپنے سافٹ ویئرز کو استعمال کرنے کی اجازت دی، جو کہ اس نے اپنی قومی سلامتی اور آرموری کھیزوں میں جاسوسی کی کوششوں سے بچائے ہیں۔ یہ ایک بڑا فैसलہ ہے جو چین کو اپنے مقابلے میں مضبوط بناتا ہے
اس معاملے سے پہلے، چین نے اپنی حکومت کی رائے کو حاصل کرنے کے لیے لگایا تھا جس کے نتیجے میں اس نے اپنی مغربی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے، جو کہ یہ کامیاب فیصلہ تھا جس کے نتیجے میں چین اپنے مقابلے میں قوی بن گیا ہے۔
اب جب دیکھا जائے تو، چین کی یہ پابندی اسے اپنی ترقی اور ترقی کو بڑھانے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔
چینی حکومت نے پھر سے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کی حفاظت کے لیے کھڑی ہو رہی ہے اور مغربی طاقتوں کو اس سے ناکام رکھنا چاہتی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے چین اپنی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں پر زیادہ پابندی عائد کر رہا ہے جو کہ ایک اچھا کदम ہے۔
لेकिन یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس فیصلے سے چین کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس نے اپنے ملک میں ایسے مواقع پیدا کئے ہیں جو لوگوں کے لئے مشکل ہوسکتی ہیں۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی اور سفارتی تناؤ کی صورت حال میں، یہ فیصلہ اپنی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے میں ایک اچھا قدم ہے۔ لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے نتیجے میں چین کو اپنی قومی سلامتی پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے جو کہ ایک خطرناک موقف ہو سکتا ہے۔
اس معاملے کو دیکھتے ہوئے مجھے بہت زیادہ سچائی محسوس ہو رہی ہے کہ چین نے اپنے ملک کی سائبر سلامتی کو سب سے پہلے اپنی قیمتیں کیا ہیں، جیسا کہ ابھی تک انہوں نے اس بات کو بھولا نہیں ہوا کہ مغربی طاقتوں میں جاسوسی کی زیادہ اچھائی نہیں، جو کہ ایک حیران کن مواقع پیدا کر رہی ہے۔
یہ فیصلہ چینی حکومت نے پہلے کی طرح ہی سائبر سیکیورٹی پر توجہ دی ہوئی، لیکن اب اس نے ایک اور مقصد کے ساتھ اہداف کو یکجا کیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی حکومت نے اپنے ملک میں ایک اچھی دلیل کیے جیسا پابندی عائد کر دی ہے، حالانکہ اس کے پीछے کیا منصوبہ ہے وہ تو لگتا ہے کہ اس کا مقصد ایسے بڑی کمپنیوں کو استعمال نہ کرنے کی طرف لے جاتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل سے تعلق رکھتی ہیں، یہ ایک خطرناک بات ہے کہ اگر اس کو یقینی بنایا نہیں جاتا تو یہ دوسرے ملکوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔
چینی حکومت کی یہ فیصلہ چنی ہوئی نہیں بلکہ اس پر بالکل پھر سے بات کی جا رہی ہے کہ چین ایسے ٹیکنالوجیز پر پابندی لگا کر اپنا مقابلہ کر سکتی ہے جو مغربی ملکوں میں موجود ہیں اور یہ فیصلہ ان تمام کمپنیوں کے لیے بھی اپنے ملک میں استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن کی ملکیت امریکہ اور اسرائیل کی ہوتی ہے۔
اس سے چین کو اپنی قومی سلامتی کے لئے ایسے ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جو اس میں جاسوسی کی کوششوں سے بچا رہتا ہے اور یہ بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ اپنے ملک میں کامیاب ہو سکے۔
بھی ہوئی یہ واقفیت چین کو مغربی طاقتوں سے الگ کرتے ہوئے ایک مضبوط سائبر سیکیورٹی پوزیشن بنانے کی ناکام کوشش ہے۔
مگر یہ سوال ہے کہ یہ کیا ہو گا کہ اس ناکام کوشش کو ایک دوسرے معاملے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میڰ چین کے اچھی طرح سے استعمال کیے جانے والی سافٹ ویئرز پر پابندی عائد کرنے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس ناکام کوشش کا یہ فیصلہ کیسے بن گیا تھا جس سے وہ اپنی قومی سلامتی کو ایک اچھی طرح سے مشورہ دیا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ سے میرا خیال لگتا ہے کہ یہ چین کی قومی سلامتی کو بڑھानے کے لیے ایک اچھا کदम تھا۔ وہ مغربی طاقتوں سے جاسوسی کرنے میں مصروف رہتے ہیں، اس لیے چین نے اپنی خود کی حفاظت کے لیے اس پر پابندی عائد کرنا بہت ضروری سمجھا۔
لेकن، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ انھوں نے اب تک کی طرح کیا ہے اور وہ اس میں اپنی تازہ ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کر رہے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ معاملہ ہے جس پر دیکھنا ہو گا کہ چین اور مغربی طاقتوں کی سائبر سیکیورٹی میں کتنے نئے منظر پیدا ہو گے
اس معاملے کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ بات کچھ متعثر ہوئی ہے کہ مغربی عالمی طاقتوں نے اپنے ملکوں میں بھی ایسا ہی بڑا کارروائی کی ہوگی چینی حکومت نے ان سائبر کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے جو کہ کافی استعمال ہو گئے ہیں۔
اس معاملے میں ایک اور بات جس کو مجھے یاد آتا ہے وہ یہ ہے کہ چین نے اپنی حکومت میں جو ٹچ نہ ہونے کی پابندی عائد کر دی ہے اس سے ان کی حکومت کو بھی ایسا ہی محرک بننے والے تینز کا سامنا کرنا پڑے گا جیسے وہ بھی اپنی سائبر سلامتی کے بارے میں ہمیشہ سوچ رہے ہیں۔
یہ رائے نے مجھے محسوس کیا کہ چینی حکومت کو انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنا ایک بڑا رہنمائی ہے اور یہ ان کے ملک میں ایک نئی سطح پر سائبر سیکیورٹی بناتا ہے جو بھی جاسوسی کا ایک محرک بنتے ہیں۔
چین کی یہ رائے ان کے سافٹ ویئرز کو استعمال نہ کرنے کے لیے بھی ایک اہم رہنمائی ہے جس سے وہ اپنی قومی سلامتی کو بڑھا سکتی ہے۔
چینی حکومت کی یہ رائے کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنا اور جاسوسی سے بچنے کے لیے ہدایات دینا، ایک بڑی کامیابی ہوگئی ہے۔
اس معاملے سے مینے کو بھی انکار کرنا ہوگا ، چینی حکومت نے ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کی ہے، اور اب یہ ڈرامہ کیا گیا ہے کہ اس کو کیسے استعمال کرنے دوں؟
اس معاملے میں چین نے اپنی قومی سلامتی کیProtective measuresلگائی ہیں اور اب مغربی طاقتوں کو بھی انہیں استعمال کرسکا نہیں، یہ تو بہت سی اہم معلوماتوں کا حامل تھا جو کہ بلاشبہ چینی حکومت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں،
لیکن مینے اس بات کو منازلہ نہ دیا جو ہوا ہوئی تھی کہ یہ انفرادی کمپنیوں کی بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ تھا؟
اس معاملے کو دیکھتے ہوئے، مینے سोचا ہے کہ یہ چین کے لیے ایک اور بڑا قدم تھا جو اس نے اپنی قومی سلامتی کو بھی مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،
لیکن چینی حکومت کو یہ بات پہچاننا چاہئے کہ دنیا بھر میں اس کے بعد کیا کرے گا؟
یہ واضح ہے کہ چین کی حکومت نے اپنی قومی سلامتی کو سرانجام دینے کا ایک اچھا طریقہ بنایا ہے، ان تمام کمپانیوں پر پابندی عائد کرنے سے جو مغربی ملکوں میں کام کر رہی ہیں جو اس کے لیے خطرہ دکھاتے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسے فیصلوں سے ان کی فیکٹریز اور ان کی کاروباری سرگرمیاں ناقص ہوجاتی ہیں، جس سے وہ اپنے معاشی نظام کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
لیکن اس پر غور کرتے ہوئے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کی اہمیت کو چین نے ایک نئی سطح پر سمجھا ہے، جس سے وہ اپنی قومی سلامتی کو بڑھانے میں کامیاب ہوگا۔
اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس معاملے نے چین اور مغربی طاقتوں کے مابین تجارتی اور سفارتی تناؤ کو مزید تیز کیا ہے، جس سے ایک نئا دور شروع ہوگا۔
اس فیصلے کی بات کرنے والی چینی حکومت کو میں یقین ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے لئے اپنا مقابلہ کر سکتی ہے، اس لیے نہیں تو اس کی اہمیت کا احترام نہیں کر سکتا. یہ چینی حکومت کے لئے ایک اچھا فیصلہ ہے جس سے وہ اپنی قومی سلامتی کو بڑھانے کی کوشش کر سکتی ہے
ایسا लगतا ہے جیسے چین نے اپنی سائبر سیکیورٹی کو اپنے ملک میں خاصا اچھی طرح سمجھ لیا ہو، اس لئے انہوں نے مغربی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کر دی ہے جو ابھی ابھی ایک نئی دنیا کی طرف بڑھ رہی ہے
یہ تو بھی نہیں، میرا خیال ہے کہ اس سے پہلے یہ بھی پٹری چڑھائی کر رہی تھی... اور اب چین انساف و جاسوسی کی پابندی کیسے ہوتی؟ یہ طاقتوں میں ایک نئی جڑ کو بنایا ہوا ہے جو اس سے بعد کے تجربات پر نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہی ہے...
چینی حکومت کی یہ فیصلہ دھارنا تو پورے دنیا کو خوفزدہ کر دیا ہے، مغربی ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کرنے کا یہ ایک واضح رائہ دھن تھا جو اس وقت تک نہیں سیکھی تھی جب تک چین نے اپنی قومی سلامتی کی بھावनوں میں گہرائی نہیں دی تھی۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ کا یہ فیصلہ بھی ہمیشہ سے موجود رائے کو ظاہر کرتا ہے جو اب تک نہیں سکھی تھی۔
چین کی ایسے عہدیداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنا چھوڑ دیا ہے جیسے ان کی زندگی گزارنے والا کچھ بھی نہیں ہے۔
اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس معاملے سے ان لوگوں کا کیا فائدہ ہوگا جو چینی حکومت کے نال بہت جیسے اور مغربی ٹیکنالوجی پر منحنیف ہوتے ہیں۔