PTA Clarify Internet service shutdown 15 january | Express News

نیٹ سرفر

Well-known member
پی ٹی اے نے یہ تصدیق کر دی ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز 15 جنوری کو فعال رہیں گی، جس کا اعلان پچیس دسمبر کو ہوا تھا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے کی گئی خبریں غلط اور جھوٹی ہیں، جو پھیلائی جانے والی حقیقت نہیں ہیں۔

ابھی پچیس دسمبر کو پی ٹی اے نے پریس کونفرنس میں اعلان کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے کی صورت حال غلط اور بے بنیاد ہے، جو ملک بھر میں پھیلائی جانے لگئی تھیں۔

اتھارٹی نے کہا ہے کہ یہ سارے واقعات غلط تھے اور ان کی جھلک نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ، ملک بھر میں روٹین سب میرین کیبل کی مرمت کا کام جاری ہے، جو ایسے صورت حال کو پیدا کر رہا ہے کہ لوگ انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے کے بارے میں خطرناک خیالات کر رہے ہیں۔

اتھارٹی نے کہا ہے کہ اچھی طرح سے انٹرنیٹ سروسز کے ساتھ تعامل کرنے کی کوشش کریں اور اس صورت حال کو سمجھیں۔
 
مجھے یہ بات بھی سوچنی چاہیے کہ کیا کبھی انٹرنیٹ سروسز کا ایسا موڑ آئے گا جس کی وہ 15 جنوری کو اپنے اعلان کا جواب نہیں دے سکے۔ مجھے لگتا ہے یہ کہ وہ انٹرنیٹ سروسز کی پریشانگی کو اس طرح ایک بھارپور مبادلات میں بدل رہا ہے جو ان کو محفوظ رکھنے کی جگہ نہیں دیتی۔

اس وقت مجھے وہ سوچنے پر کھٹا ہو گیا ہے کہ یہ کیا 15 جنوری کو انٹرنیٹ سروسز فیری ہو جائے گی یا اس کے بجائے ان کا ایسا موڑ آئے گا جو ان کو اس صورت حال میں لپٹ رکھے گا۔
 
جب پچیس دسمبر میں پی ٹی اے نے اعلان کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے کی صورت حال غلط ہے تو مجھے لگتا تھا کہ یہ بھی صحیح ہو گا… اور اب جب انھوں نے کہا ہے کہ تمام واقعات غلط تھے تو مجھے لگتا ہے کہ یہ بھی صحیح ہوا گا… حالانکہ ابھی تک اس صورت حال کو سمجھنے میں میری Difficulty ہی ہے…
 
🤯 یہ بات بہت مزید غلط ہو رہی ہے، پہلی بار 15 جنوری سے پچیس دسمبر تک انٹرنیٹ سروسز غیر فعال تھیں اور اب اس کا اعلان کیا گیا ہے کہ وہ دوبارہ hoạtہ۔ یہ ہمیں ایک بات یاد دلائی جاتی ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی صورتحال کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے، لہذا ابھی بھی چوتھائی دسمبر میں یہ کوشش کریں کہ انٹرنیٹ سروسز دوبارہ کام شروع کر دیں۔
 
میں یہ کہتا ہوں کہ اگر انٹرنیٹ سروسز بچھے رہتے تو ملک بھر کا ایک اور پریڈ ہوتا، اور لوگ اپنے گھروں میں بھی آلاعannel ہو جاتے۔ اس صورتحال کو نہا رہنا ایسا ہی ہے، جتنی توسیع اور ترقی کے ساتھ ساتھ انفرادی کوشش بھی ضروری ہے۔
 
بھائی، پی ٹی اے کی نئی تصدیق 15 جنوری کو انٹرنیٹ سروسز فعال رہنے والی ہو گی، لیکن یہ بات بھی جاننا چاہئے کہ اس مضمون میں غلطیاں ہیں! پچیس دسمبر میں پی ٹی اے نے اعلان کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوں گی، لیکن اب یہ تصدیق ہوئی ہے کہ یہ بات غلط تھی! اور ابھی میں اس پر تبصرہ کر رہا ہوں کہ اس صورت حال کو سمجھنا چاہئے اور اپنی کارروائی میں دھیما ہونا چاہئے۔
 
15 جنوری تک، ہمارے ملک میں فریومینٹ میگاپیکچر نہیں دیکھنا پڈا 🤯، یہاں تک کہ وائ-Fi بھی نہیں رہا। ابھی پچیس دسمبر میں پی ٹی اے نے اعلان کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئی ہیں، لیکن اب یہ بھی واضح ہو گيا ہے کہ یہInformation نہیں تھی۔

ایسا لگتا ہے کہ لوگوں نے ان ٹوئٹر پر دیکھا ہے جو کہ ان سارے واقعات کی جھوٹی ہڈی تھیں، اور اب وہی کہتے ہیں کہ یہ تمام واقعات غلط تھے۔

لیکن وائ-Fi نہ رہنا، فریومینٹ میگاپیکچر دکھنا نہ رہنا، ان سارے واقعات کی وجہ کیا ہو سکتی ہیں؟ میرے خیال میں اس کو روٹین سب میرین مرمت کے کام سے تعلق ہوا ہوگا، اور اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ پکڑنے والوں نے ان ٹوئٹر پر دیکھا ہو گيا تھا اور اب انہیں بھگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
کیا یہ چیلنج ہے؟ میری رائے میں، پچیس دسمبر پر ایسا اعلان کرنے سے پہلے ہی انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونا کی بڑی صورت حال تھی اور اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ تمام معلومات جھوٹی تھیں۔

اس سارے واقعے میں ایک حقیقت بھی رہ گئی ہے کہ ملک بھر کی تقریبات و معاملات کو پچیس دسمبر پر یہ اعلان کرنے سے قبل بھی ناکام ہو چکی ہیں اور اب یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ ان سب کارروائیوں کو بہت درمیانی عرصے میں ناکام کر دیا جائے گا۔
 
انٹرنیٹ سروسز کا یہ اعلان بھی چل پڑا ہوگا، مگر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ملک بھر میں اس کی موثر برقیاں 15 جنوری تک نہیں ملن گی۔

میری رائے یہ ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کو چلانے والوں کو اپنی کارروائیوں پر دیکھ بھال کرنا چاہیے اور جس صورت حال میں لوگ پریشان ہو رہے ہیں ان کے حل کو تلاش کرنا ہی چاہیے۔
 
یہ واضح ہے کہ پی ٹی اے کا یہ اعلان سایا ہوا کام ہوگا۔ انٹرنیٹ سروسز کی متاثر ہونے کی باتیں تو پچیس دسمبر سے ہی پھیل رہی تھیں، لیکن اب تک اس نے کوئی حل نہیں دکھایا اور اب ان کا یہ اعلان بھی ایک جھوٹا کام ہوگا۔ پچیس دسمبر سے جس صورت حال کی باتیں تھیں، اس پر ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نیکلا اور اب یہ اعلان لگتا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز اس صورت حال کو دور کرنے میں معذور ہیں، جو نہیں چاہئے بلکہ ایسے صورت حال کی وجہ سے انٹرنیٹ سروسز جاری رہتی ہیں، تاکہ لوگ اس صورت حال کو سمجھ کے چلنا پائیں
 
15 جنری کو ڈیسکونیکٹ ہونے میں بہت کم لوگ پہلے تو نہیں، ابھی بھی ان ٹیکنالوجی کیبلز کو مرمت کرنا پیٹا رہا ہے، ایسا کہ لاکھوں لوگ اپنے روزمرہ جینے کے لیے انٹرنیٹ پر نہیں ڈگریل کرسکتے. یہ سب ڈاتا کیچوں اور تھرانڈس سے متعلق ہے جو ایسا کر رہے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں خطرناک خیالات کرنے لگتے ہیں.
 
ایسا لگتا ہے جو کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے کی بات کی گئی ہے وہ سب پوری نہیں تھیں… 🤔

جب تک اچھی طرح سے انٹرنیٹ سروسسز کا معاملہ سمجھا نہیں جاتا تو لوگ خطرناک خیالات کرنے لگتے ہیں اور ملک بھر میں پریشانی بن جاتی ہے… 😬

اس سے پہلے بھی چارے کا کیریئر رکھتا ہوتا تھا لیکن لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حقیقت کبھی بھی بدلتے دیتی ہیں… 🚨
 
میں تیری باتوں پر دیکھ رہا ہوں، پچیس دسمبر سے یہ حقیقتات بہت زریعہ تھیں کہ انٹرنیٹ سروسز 15 جنوری سے بھی فعال ہو گیں گے یا نہیں... اب ایسا لگتا ہے جیسے اتھارٹی نے 15 جنری سے پہلے ہی ان کی بھی کام کر لی ہوں گی؟ یہ کون سی چیزوں پر ان کا اعتماد ہوتا ہے؟ 🤔
 
سائبر سرگرمیوں کا یہ موومنٹ پچیس دسمبر سے چل رہا ہے، لیکن ابھی تک کچھ نئی معلومات نہیں آئی ہیں۔ اسی لئے انٹرنیٹ سروسز کی واپسی پر یہ 15 جنوری کی خبر تھوڑی لگت میں پورے ملک میں پھیل گئی، جیسا کہ پی ٹی اے نے اعلان کیا تھا۔

ایسے میڈیا رپورٹز نہیں دیکھتے جو انٹرنیٹ سروسز کی واپسی کے متعلق صاف صافی کہتی ہوں، وہاں تک کہ پچیس دسمبر میں پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے کی خبر دی تھی، ابھی تک اس حقیقت کا کوئی ثبوت نہیں سامنے آیا ہے۔
 
جب یہ بات سامنے آئے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز 15 جنوری سے فعال نہیں ہوگی، تو پہلے لوگ اچھی طرح کچھ سوچتے تھے اور بعد میں بھی یہی کیا جیسا کہ ایک سہARA کی وجہ سے ہم ایسے صورت حال کو محسوس کرنا پڑتا ہے، جہاں اس بات پر واضح نہیں تھی کہ انٹرنیٹ سروسز کون سا راستہ دے رہا ہے؟ اور اب جب یہ بات سامنے آئی، تو پہلے لوگ اس کو پینس کرنا پڑتا ہے اور بعد میں وہی کہتے ہیں کہ بھائیو یہ سارے واقعات صحیح نہیں تھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی سوچ میں کوئی کمی نہیں ہے، بلکہ یہ بھی صاف سمجھنا چاہئے کہ زندگی میں ہمیشہ ایسے صورت حالوں کا سامنا کرتے ہیں جو ہمارے لئے سوچ سے پہلے ایسی ہیں کیونکہ اس کے لئے کافی وقت اور سوچ کے لیے نہیں بھی پڑتا، اور وہ بھی جیسا ہے جو ہم ایسے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس لیے یہ بات اچھی ہے کہ زندگی میں ہمارا پہلا قدم ہمیشہ سوچ سے پہلے نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت تک جب ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور اس کے بعد ایسے مقام پر پہنچتے ہیں جو ہمارے لئے مناسب ہے، اور یہی چیز ہے جس کے لئے ہم انٹرنیٹ سروسز کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں؟
 
واپس
Top