چینگوم (چئونگم) چبایا جانے کی اہتمام کو کافی گھر میں روکایا جاتا ہے، خاص طور پر بچوں کو، لیکن اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ یہ ایک صحت مند عادت ہے جو کانوں اور دماغ کی کارکردگی میں بھی فائدہ دیتی ہے۔
انہیں معلوم ہے کہ چنگوم ایک پرانا طریقہ ہے جسے چہرے اور منہ کی سوزش سے رخصت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اس سے کانوں میں عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور زبان کے مسلز کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
ایک ماہر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ چنگوم کے خراطوں کے مسئلے میں بھی کمی آ سکتی ہے، کیونکہ یہ گلے کے مسلز کو متحرک رکھتی ہے، جس سے ناک بند ہونے، خشک کھانسی یا منہ کی خشک رہنے کی شکایت کرتے ہوئے لोग بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
چنگوم منہ میں لعاب (Saliva) کی مقدار بڑھاتی ہے، جس سے منہ خشک نہیں ہوتا اور حلق بھی نم رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، فضائی آلودگی کے دنوں میں جب اے کیو آئی زیادہ ہوتا ہے اور ناک سے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے تو چنگوم چبانے سے اورل بریتھنگ میں آسانی ہو سکتی ہے اور سانس لینے کی جدوجہد کم محسوس ہوتی ہے۔
اس سے ناواقف لوگ جانتے ہیں کہ چنگوم دماغی توجہ بڑھانے میں بھی مددگار ہے، یہ کام کرنے کے ساتھ ہی ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور فوکس بہتر ہوتا ہے، اس سے مجموعی طور پر ورک پرفارمنس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
انہیں معلوم ہے کہ چنگوم ایک پرانا طریقہ ہے جسے چہرے اور منہ کی سوزش سے رخصت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اس سے کانوں میں عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور زبان کے مسلز کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
ایک ماہر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ چنگوم کے خراطوں کے مسئلے میں بھی کمی آ سکتی ہے، کیونکہ یہ گلے کے مسلز کو متحرک رکھتی ہے، جس سے ناک بند ہونے، خشک کھانسی یا منہ کی خشک رہنے کی شکایت کرتے ہوئے لोग بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
چنگوم منہ میں لعاب (Saliva) کی مقدار بڑھاتی ہے، جس سے منہ خشک نہیں ہوتا اور حلق بھی نم رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، فضائی آلودگی کے دنوں میں جب اے کیو آئی زیادہ ہوتا ہے اور ناک سے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے تو چنگوم چبانے سے اورل بریتھنگ میں آسانی ہو سکتی ہے اور سانس لینے کی جدوجہد کم محسوس ہوتی ہے۔
اس سے ناواقف لوگ جانتے ہیں کہ چنگوم دماغی توجہ بڑھانے میں بھی مددگار ہے، یہ کام کرنے کے ساتھ ہی ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور فوکس بہتر ہوتا ہے، اس سے مجموعی طور پر ورک پرفارمنس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔