امریکہ، ڈینمرک اور گرین لینڈ کے درمیان تعلقات غماسیر ہونے پر یورپی ممالک نے گھنٹوں میں خود کو شہری جنگ میں لگایا ہے، جس سے امریکہ کے خوفات کی پوری جسامت نکل آئی ہے۔ یہ واضح بات ہے کہ یورپی ممالک نے خود کو جنگ میں لگایا ہے تاہم اس کے پیچھے ان کی یقین دہانی ہے کہ وہ ایسے وقت سیکیورٹی معاملات کا حل کر سکتے ہیں جب امریکہ گروپ کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ گرین لینڈ اور اس کا منصوبہ امریکا کی سلامتی کے لیے لازمی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک سنجیدہ مصلح کو بننے کی کوشش کر رہے ہیں جسے انھوں نے ایک ایمریکی فوجی ادارے میں مقرر کیا ہوتا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ امریکہ اس مقصد کے لیے اپنی پوری طاقت کو لاتھا ہے، جس سے یورپی ممالک کو ان کے منصوبوں کے خلاف چلنا پڑا ہے۔
روس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ چین اور روس کو گرین لینڈ کے لیے خطرہ قرار دینے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے، یہ خطہ میں کشیدگی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ڈنمارک اور جرمنی نے یہ بات بھی تصدیق کی ہے کہ وہ آئندہ مہینوں میں بڑی فوجی مشق کر رہے ہیں، جس سے انھیں یورپی اور آرکٹک اتحادیوں کے ساتھ مل کر گرین لینڈ پر یہ نتیجہ اخذ ہوسکتا ہے کہ وہ فوجی موجودگی کو عملی طور پر کیسے بڑھایا جاسکتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول قائم کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے، تاہم یورپی ممالک نے اپنا موقف یقینی بناتے ہوئے یہ کہ انھوں نے اس خطے میں فوجی موجودگی کی تعینات کا آغاز کیا ہے، جو اس بات پر مشتمل تھا کہ وہ یہ واقعہ ایک سنجیدہ اختلاف کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس کو روکنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
اس قدر اہم واقعات میں کچھ بات کرونا چاہئے۔ یورپی ممالک نے ایسی صورتحال کی طرف بڑھا رہے ہیں جس سے ایسے لوگوں کو ناکام کیا جا سکتا ہے جو صرف اپنی طاقت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے ایک اچھا خبریوaz بھی ہوسکتا ہے جو اپنے اور دوسروں کی سلامتی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ اس طرح کے منصوبوں سے ایسے لوگوں کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے جو اپنے اور دوسروں کی سلامتی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
اس بات کو چلنا مشکل ہے کہ امریکا نے یورپی ممالک پر جس طرح لobiaٹر بنایا ہے اور پھر انھیں خود کو جنگ میں لگایا ہے۔ اس کی ایسی پوری وجہ نہیں کہ وہ افریقا سے ہی نکل کر یہاں آئے تھے، پھر بھی انھوں نے اپنی فوج کو یورپ میں رکھنا شروع کیا تو اس کی پوری کوشش نہیں کی کہ وہ اسی فوج کو آرکٹک علاقے تک لے جائیں، پھر بھی انھوں نے ہی یہاں کچھ گھنٹوں میں ایسا معاملہ بنایا ہے کہ وہ فوجی موجودگی کو اپنی طاقت کے ساتھ بڑھائی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایسے میں، تو یہ بات واضح ہے کہ امریکا نے اپنی طاقت کو ہمیشہ استعمال کرنا سمجھا ہے اور اب وہ گرین لینڈ پر کنٹرول قائم کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ یورپی ممالک نے اپنا موقف یقینی بناتے ہوئے اس خطے میں فوجی موجودگی کی تعینات کا آغاز کیا ہے، جو اس بات پر مشتمل تھا کہ وہ یہ واقعہ ایک سنجیدہ اختلاف کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس کو روکنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ میرا خواہش ہے کہ وہ سب ایک ہی نتیجے پر پہنچ جائیں، لیکن میں نہیں دیکھ سکا کہ یہ کس طرح ہوگا
اس بات پر مجھے یقین ہے کہ یہ سارے حالات عام طور پر بھرپور چیلنجوں کی طرف لے جائیں گے! گرین لینڈ پر کنٹرول قائم کرنا ایک بڑا خطرہ ہوگا، اور یہ بات واضح ہے کہ اس سے پوری دنیا میں کشیدگی پیدا ہوسکیگی!
اس گہری کشمکش میں سب کچھ ایسا نہیں ہوا جیسا تھا توقع کیا جاتا تھا، امریکہ کی یہ بے پناہ طاقت انھیں اور اس خطے کو اٹھانے میں ناکام کر رہی ہے، روس اور چین نے اپنے ایک دوسرے کے ساتھ ایک موافقت کی فیلتہ جس سے یہ واضح بات آئی کہ پوری دنیا میں ایسی صورت حالوں کو حل کرنا مشکل ہوتا ہے، یورپی ممالک نے اپنے اداروں کو بھرپور کامیابی سے ان کے خلاف لڑ رہے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ سبھی ایک ایک ایسے وقت تک اٹھتے رہیں گے جب ان کے منصوبوں کو روکنا مشکل ہوسکتا ہے، سیکیورٹی کی بات کرتےSametime فوجی اداروں کو توسیع دینے سے لے کر یورپی اداروں کو انہیں روکنے میں مدد ملتی ہے
ایسا نہیں سکتا... یہ سب ایک گھنٹوں کی بات ہے... امریکہ یورپی ممالکو کے ساتھ جنگ میں لگایا ہوا، تو اُنھیں پتہ نہیں کہ یہ کیسے جاری رہے گا؟ روس کی بات بھی توجہ دیتी ہے کہ چین اور روس کو گرین لینڈ پر خطرہ قرار دینے سے بے بنیاد... یہ سب ایک بدترین فیک آؤٹ ہو گا...
ایسے میں یہ بات واضح ہے کہ یہ سب کچھ امریکہ اور اس کی طاقت پر مشتمل ہے، جیسا کہ وہ چاہتا ہے انھوں نے فوجی موجودگی کو بڑھانے کے لیے یہ سب کچھ شروع کر دیا ہے۔ تاہم اس بات پر تاکید اور واضح کہیا جا سکتا ہے کہ ایسا یقینی طور پر نہیں ہو گا کی یورپی ممالک انھیں روکنے میں کامیاب ہوں گی۔
امریکہ کا یہ سچمازہ رویہ دیکھتے ہوئے، میرے لئے یہ واضح بات ہے کہ وہ فوجی موجودگی کو زیادہ توڑنا چاہیے اور اس پر ایک سماجی معیار قائم کرنا چاہیے؟ نہیں تو یہ ساری باتوں کی بدولت کافی ہو جائے گا۔
ابھی تو یوں ہی رہا کے یورپی ممالک نے ایسے وضاحت بھی دی ہیں جن کا مقصد صرف ایک ساتھ آ کر گرین لینڈ کو منصوبہ بنانے کا ہے... اور نہیں، ابھی تو یہ رہا کے وہ اپنی فوجی موجودگی کو یورپی اور آرکٹک اتحادیوں کے ساتھ مل کر بڑھانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں...
امریکا کا یہ رویہ تو انتہائی خطرناک ہے، وہ ایک چوٹ پھیلانے والے معاملے پر سے بھی زیادہ ترازوں کی جانب رہ گئے ہیں. یورپی ممالک کو اسی خطے میں وہ فوجی موجودگی قائم کرنے کا حق ہوا ہے، اس پر وہ اپنی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں؟ یہ بھی ان کے لئے ایک نتیجہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس خطے پر ایک فوجی موجودگی قائم کر رہے ہیں، جو پھر یورپی ممالک کو بھی ایسے حالات میں ڈال سکتا ہے جس کا اس کے لئے کوئی ذمہ دار نہیں۔
اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکا اپنے منصوبوں کو شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس سے یورپی ممالک کو خطرہ محسوس ہوتا ہے، اگر ان کے منصوبوں کو روکا جائے تو یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ امریکا کی پوری طاقت اس میں کیسے کام کر سکتی ہے؟
روس کی بات بھی اچھی ہے، وہ چین کو ایسے قرار دینا نہیں چاہتے جو امریکہ نے دیا ہو، لیکن یورپی ممالک کو یہ بات بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے منصوبوں میں ایسے سہولت کے ذریعے نہیں کام کر رہے بلکہ خود سے کام کر رہے ہیں۔
یہ سب توٹھے بات ہے کہ امریکہ نے اپنی طاقت سے یورپی ممالک کو دبایا ہے اور انھوں نے بھی خود کو اس معاملے میں لگایا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ یورپی ممالک نے اپنی جڑیں امریکہ سے توٹھیوں سے پھیلائی ہوئی ہیں اور انھوں نے اپنا موقف باسٹا لگایا ہے۔
روس کے یہ بھی کہنا جو کوئی منفی دیکھتے ہو وہ ایک مظالم کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، لیکن یہ بات واضح ہے کہ چین اور روس نے امریکہ کو دھمکی دے رہے ہیں اور انھوں نے اپنا معاملہ جاری رکھا ہے۔
اس معاملے سے یہ بات واضح ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے ممالک کی ایسی صورت حال ہوئی ہے جس سے دنیا کو خوفناک محسوس ہو رہا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ہمہ ممالک کی ایسی ضرورت ہے جس سے دنیا میں امن اور سکون نہیں ہو سکتا۔
عثمانیاں ایسا لگتا ہے جیسے وہ بھی ایک سنجیدہ مصلح بننے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کی طاقت بھی اس مقصد کے لیے نہیں لائی گئی جس کا کہیں دوسرا ساتھی اپنی طاقت کو استعمال کرے۔
اس وقت تک بھی یہ بات واضح نہیں ہو سکتی کہ امریکا کی یہ اور ایسے خوفات کیسے پیدا ہونگی جن سے اب وہ محصور ہوا ہے؟ نہیں تو وہ اپنے قریب اس خطے کو بھرنا چاہتے تھے جہاں دوسری ممالک بھی اپنی موجودگی کا حقدار ہیں۔
اس سلسلے میں یورپی ممالک کی جانب سے اس خطے کو ایک منظر گھیرنا اچھی بات ہے، حالانکہ وہ ابھی بھی فوجی موجودگی کا حقدار ہیں لیکن ان کا یہ قدم نہیں لگایا تھا جو اب لگ رہا ہے۔
اس بات کو کھتمہ نہیں دینا چاہئے کہ امریکہ کی ایسے خوفات اس لیے پیدا ہوئی ہیں کہ وہ انصاف نہیں دیتا، اور ابھی بھی اس کے ہاتھ میں بالکل سیکیورٹی کی پوری طاقت ہے۔
اس واضح بات پر چلے آئے ہم، ایسے وقت بھی کبھی یورپی ممالک کو اور امریکہ کو اپنی دوسری طرف کی بات سنی ہوتی ہے کہ وہ ایک ساتھ فوجی موجودگی رکھنے کا مقصد بناتے ہیں اور اس سے پورا یورپی خطہ امریکہ کے نتیجے پر چل جاتا ہے
اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی پوری طاقت اور فوجی موجودگی سے ان کے منصوبوں پر چلنا پڑا ہو، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس خطے میں کشیدگی کو روکنے کی کوئی ایسی بھावन نہیں ہے جو ان کے منصوبوں کو روک سکے
یہ سب توسیع و تعاون کا ایک لازمی حصہ ہے لیکن جب امریکہ نے اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی کی تعینات کی تو یورپی ممالک کو یہ بات اچھے سے سمجھائی پڑی کہ وہ بھی اس خطے پر اپنے تعاون کو ظاہر کرنے والے ہیں
امریکہ نے یہ خطہ اپنی سلامتی کا ایک حصہ بناتے ہوئے فوجی موجودگی کو تیز کر دیا ہے، لیکن اس کی وجہ کیا ہوگا؟ یورپی ممالک نے بھی خود کو شہری جنگ میں لگایا ہے، تاہم انھوں نے ایسا کرنا ہی کیا کہ دوسروں پر توجہ مبذول کر دی جائے، جو یہی وجہ ہے کہ انھیں اس خطے میں فوجی موجودگی کی تعینات کا آغاز کرنا پڑا۔
اس کے بعد یہ توجہ ڈالتا ہے کہ یہ سارے گھنٹوں میں ایسے حالات کی پیداوار کر رہے ہیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ دنیا بھر میں فوجی موجودگی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے، جس سے پوری دنیا پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔