آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف

سفر پسند

Well-known member
وزیر خزانہ کے مطابق پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے حکومت پر مالی دباؤ 472 ارب روپے تک پہنچ گیا، اب تمام صوبے اور وفاق ہر 6 ماہ بعد پی پی پی منصوبوں کی رپورٹ دیں گے۔ ان منصوبوں میں 368 ارب روپے کے ہنگامی نوعیت کے اور ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافے کی مد میں 150 ارب سے زائد واجبات شامل ہیں، مجموعی واجبات میں مالی گارنٹیز کا حصہ 104 ارب روپے ہے۔ ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 36 منصوبوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، سندھ میں سب سے زیادہ مالی خطرہ ہے، مجموعی رقم 335.6 ارب روپے ہے۔

دستاویز میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کے پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے 90.6 ارب روپے کا مالی دباؤ ہے، پنجاب کے پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے 26.5 ارب روپے کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔

ان اعداد و شمار کو ایک نیا مانیٹرنگ فریم ورک کے تحت متعارف کیا گیا ہے جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جس سے حکومت کو ان منصوبوں کے مالی دباؤ کو بھارپور طور پر جاننا ہوگا اور اس طرح معاشی مریض ہونے سے بچایا جا سکے گا۔

اس نئے فریم ورک کے تحت، پی پی پارٹنرشپ منصوبوں میں کم از کم آمدن کی گارنٹی، شرح سود شامل ہے، ڈالر ریٹ اور لاگت میں اضافہ بھی بڑے خطرات میں شامل ہیں۔ یہ نظام وفاقی حکومت کے اس منصوبے سے متعلق مالی خطرات کو جاننا گہرا اور معاشی مریض ہونے کی پوری بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
 
جی تو یہ بات واضح ہے کہ پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے ملا نا ہوا مالی دباؤ حکومت پر بڑا دباؤ پڑ رہا ہے، اب تو ملک بھر میں سب سے زیادہ خطرہ ہی سندھ میں ہے، لگت ہی نہیں کہ یہ بات واضح آئے گی کہ آسٹریلوی انvestment نیٹ ورک اور امریکہ کی ایج ڈی فنانچل سے بھی ملنے والا معاونت میں نہیں آئی تو یہ ملا نا ہوا مالی دباؤ آزاد نہیں رہے گا، اس لیے اب کوئی بھی منصوبہ چالو کرنے سے پہلے اپنی پورے ماحول کے معاملات کو سمجھنا ضروری ہے 🤔
 
بہت کچھ 472 ارب روپے تک لگایا گیا، یہ تو کافیAmount ہو گيا۔ لیکن ان منصوبوں میں سے کون سی معقول ہیں؟ سب کچن کی چکیں پر چل رہے ہیں اور وفاق کو بھی بھگا دیا گیا ہے۔ اس طرح کی منصوبوں سے پیداوار میں کمی اور معاشی مریض ہونے کا امکانات زیادہ ہیں، یہ معقول نہیں ہو گا۔
 
اب یہ بات تو چاہیے کے پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے حکومت پر پورے ملک میں مالی دباؤ ٹپ رہا ہے، اور یہ نئا مانیٹرنگ فریم ورک ایسا ہی کھلنے والا ہے جو ان منصوبوں کے مالی خطرات کو دیکھنا اور اس سے بچایا جانے کی کوشش کرے گا، لیکن ابھی یہ بات تو نہیں پتہ چلتی کہ یہ سارے منصوبوں میں کس قدر معاشی خطرات موجود ہیں؟ اور یہ نئا فریم ورک اس کی پوری صلاحیت کب تک استعمال کر سکتا ہے?
 
تجویز یوں کے میگھتی ہیں، پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے مالی دباؤ 472 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے 🤑 تو ایسے میں کیسے؟ اب تمام صوبوں کو 6 ماہ کی مہلت دی گئی ہے، اب 36 منصوبوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے اور اس سے مل کر پتہ چل گا کہ یہ منصوبے کس طرح آئندہ کے لیے مالی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں? #PPPCrisis
 
بہت واضح ہے کہ پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے 472 ارب روپے تک کی مالی دباؤ کی صورت حال حکومت پر ایسا نہیں لگ رہی جو لوگوں کو جھOMKAR کرتا ہے, یہ ایک انتہائی خطرناک مقام ہے!

اس نئے مانیٹرنگ فریم ورک سے معاشی مریض ہونے سے بچایا جا سکتا ہے اور وفاقی حکومت کو ان منصوبوں کے مالی دباؤ پر ایسا محاور نہیں کہ "کھیلو دُف کرے"
اس لیے، یہاں تک کہ فدرال گورنمنٹ کی جانب سے ان منصوبوں کے مالی خطرات کو جاننا اور اسے کم کرنا بہت اچھا ہے
 
اس نئے منٹنگ فریم ورک سےGovernment کو پی پی پارٹنرشپ منصوبوں پر پورا چیک کرنا آئگا 🤔، اب تو پھر Government کے پاس ان منصوبوں کی پوری رپورٹ 6 ماہ میں دی جائے گی، اور یہ بھی آئگا کہ وفاقی حکومت کو 472 ارب روپے تک کا مالی دباؤ سونپنا پیٹھا ہو گا 😬، 368 ارب روپے کے بہت زیادہ اور ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، اور مجموعی واجبات میں 104 ارب روپے کا حصہ ہے 📈
 
یہ بات یقینی طور پر یہ بتاتا ہے کہ پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے مالی دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے وفاقی حکومت اور صوبےں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا پائے گئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ منصوبے بہت زیادہ ترقیاتی تھے، لیکن اب وہ اچھے نہیں لگ رہے، پہلی بار یہ بتاتا ہے کہ پی پی پارٹنرشپ منصوبوں کی لاگت میں اضافے سے بڑے خطرات پیدا ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے معاشی مریض ہونے کا خوف لگتا ہے۔
 
یہاں تک کہ وزیر خزانہ کی باتوں سے بھی پورا معاشی نظام جھلک گیا ہے۔ پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے مالی دباؤ اچانک 472 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، یہ کیسے ممکن ہوا اور کیہ اس میں ہنگامی نوعیت کی منصوبوں کی لاگت اور مالی گارنٹیز شامل ہیں؟ ان تمام اعداد و شمار کو ایک نیا مانیٹرنگ فریم ورک کے تحت متعارف کرایا گیا ہے، لेकिन یہ سوال بھی نہیں کہ یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟ یا کیا یہ سارے معاملات کو سمجھنے والا ہے؟
 
بھیڑو میں لگنے کا نہیں چلنا, ہر گھر کے بنگڈ کو انٹیگریٹ کرنا ہی ہوتا ہے, ایسا پینا جو کہ جیسے اس کی بناوٹ ہو.

😊
 
بہت خطرناک ہے پی پی پارٹنرشپ منصوبوں کا یہ دباؤ ، سندھ میں سب سے زیادہ خطرہ ہے، 335.6 ارب روپے کی مہanga گزرش ہوئی ہے تو ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مہanga گزرش کی گئی ہے اس طرح میں معاشی مریض ہونے سے بچایا جا سکدا ہے تو یہ سچائیوں کو سمجھنا چاہیے اور اس نئے مانیٹنگ فریم ورک کے تحت یہ رپورٹ دیکھنے کے لیے اہم ہے کہ پبلیک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں سے کی جانے والی مہanga گزرش کیا ہوئی ہے اور اس پر یہ کیسے کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے ?
 
اب تو یہ بات کبھی نہیں تھی کہ پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے لاکھ ہزار روپے کی مالی دباؤاں آ رہی ہیں، اب یہ بات واضع ہونے چلی گئی ہے کہ سندھ میں سب سے زیادہ خطرہ تھا، 335.6 ارب روپوں کی معاشی خطرناک منصوبے کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ وفاقی حکومت کے منصوبوں سے 90.6 ارب روپے کی مالی دباؤ، پنجاب کے منصوبوں سے 26.5 ارب روپے، ان تمام معاملات کو ایک نظر سے جاننا اور معاشی مریض نہ ہونے کا امکان تھوڑا ہی رہ گیا ہے
 
واپس
Top