ایران میں پرتشدد احتجاج اور کشیدگی پھیلانے کے سلسلے میں ناکامی خاتون نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے براہ راست رابطوں کا اعتراف کیا ہے، جس پر ایران میں حکومت کی جانب سے اسपर شدید تنقید کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ملک میں پرتشدد احتجاج اور کشیدگی کو پھیلانے کے لیے اہلکاروں اور شہریوں پر گولی چلائی، جس سے ان کی جان جان بچ گئی ہے۔
ایران میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تہران میں گرفتار افراد کو چیف جسٹس غلام حسین محسن نے ایک پلیٹوں پر ریکارڈ کروایا ہے، جس سے باتچیت کی گئی ہے کہ انہوں نے ملک میں کشیدگی کو پھیلانے کے لیے اہلکاروں اور شہریوں پر گولی چلی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسے گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی جس کا مقصد ملک میں پرتشدد احتجاج اور کشیدگی کو پھیلانے کے لیے تھا۔
ایران کی حکومت نے بتایا ہے کہ تمام ملزمان بالواسطہ یا بلاواسطہ غیرملکی خفیہ ایجنسیوں سے منسلک تھے اور انہیں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دباؤ میں آئے تھے۔
ایران کے یہ واقعہ واضع طور پر خوفناک ہے، جس پر دنیا بھر میں لوگ گہرے تعقب سے دیکھ رہے ہیں، اس طرح کی مظالم پر کوئی نہ کوئی دکھتا ہوتا ہے لیکن یہ بات تھوڑی جھوٹی بھی ہے کہ ملک میں پرتشدد احتجاج اور کشیدگی کو کبھی بھی پھیلایا جا سکتا ہے، کسی نے نہ تو اپنی زندگی اور نہ ہی ملک کی زندگی پر اس طرح کا نقصان ڈال سکتا ہے۔
ایسا نہیں ہوگا کہ آمریکا اور اسرائیل ایران میں پرتشدد اور احتجاج کو فائر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ایران کی حکومت نے بتایا ہے کہ تمام ملزمان بالواسطہ یا بلاواسطہ غیرملکی خفیہ ایجنسیوں سے منسلک تھے اور انہیں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دباؤ میں آئے تھے؟ یہ بھی ہے کہIran میڈیا کے رپورٹ پر ایسا لگتا ہے کہ وہ ملک میں کشیدگی کو پھیلانے کے لیے اہلکاروں اور شہریوں پر گولی چلی تھی، اور یہ بھی کہ ایران کی حکومت نے انہیں ایسا کرنے کے لیے دباؤ میں آنے کی کوشش کی۔ یہ سب کو سمجھنی چاہیے کہ ایران میں پرتشدد اور احتجاج کی صورت حال ہی بھی ایک پیچیدگی ہے، اور ہم اس پر توجہ نہیں دیتے تو یہ دوسرے طرفوں کو نکلنے کا موقع ملتا ہے، اس لیے کہ آپ نے بتایا ہے کہ ملنے والی خواتین نے خود بھی ایسا ہی کردیا اور ان کی جان جان بچ گئی۔
میتھر میں یہ واضع ہو گیا ہے کہ خواتین نہیں ہوتے جو ایسی صورت حالوں میں شامل ہوتی ہیں جس سے ملک بھر میں پرتشدد اور حیرت انگیز کشیدگی پیدا ہوتی ہے، یہ صرف ایسی خواتین ہوتے ہیں جو اپنے ہاتھ سے سرجہ ہرای کرتے ہیں اور لوگوں کو دبا دیتے ہیں… ~-~
اس کے بعد ایران میں یہ حالات تو مزید خراب ہوگئے ہیں اور پتا لگتا ہے کہ خواتین کو ان کی سارے معاملات نہ صرف اسرائیل پر دباؤ میں رکھا گیا ہے بلکہ ملک بھی اسपर دباؤ میں ڈال دیا جائے گا تو یہ اچھا نہیں ہوگا
اس بات پر مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ خواتین جو پرتشدد احتجاج اور کشیدگی کو پھیلانے کا انصاف دے رہی ہیں وہ حقیقی قائदین ہیں اور ان کے عملوں کی جانب سے مجھے بھی کوئی جلاوطنی نہیں ہو سکتی۔
لیکن دوسری طرف اسی خواتین کو ملک میں گولی چلانی پہ انہوں نے جان بچائی ہو سکتی ہے، یہ بات کبھی نہیں سمجھنی چاہیں گی!
ایسے سارے واقعات کی دیکھتے ہوئے مجھے کوئی واضح سوالات نہیں آتے کہ یہ حقیقت کیا ہے؟
اس ناکام خاتون کے اس اعلان کو سن کر مینے انہیں تو لارہا ہوا اور ابھی تو اسے کہہنا تھا کہ وہ ایک ناکامی ہیں اور اب وہ خود کو دھمپ کرائی رہی ہیں، انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے براہ راست رابطوں کا اعتراف کیا ہے؟ اور اس پر ایران میں حکومت کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے؟ مینے بھی انہیں انہی نتیجوں کو اپنی ناکامی کا سبب بنانے میں مدد فراہم کرنا چاہیے
کیا وہ دن نہیں آیا جب ایران کے شہر میں بھی پرتشدد اور کشیدگی پھیلتی تھی؟ اب وہ لوگ جو ایک دہائی قبل اس کو پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے، اب ان پر ناکامی کا شکار ہوئے ہیں... ایسے میڈیا چینلز جنہوں نے اس کے پچھلے دنوں سے ہی ان پر دباؤ کیا، اب وہ ان پر تنقید کر رہے ہیں... یہ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے لئے ناکامی ہو گی!
امرکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا ایسا ہی منظر نظر آ رہا ہے جو ایران میں بھی مل کر اس پر اثر انداز ہو گیا ہے اور یہاں کی حکومت کو تو اپنی خودی پر قابو پانے کی کوشش کرنا چاہیے لیکن ایسا لگ رہا ہے جو انہیں بھی مل کر اس پر اثر انداز نہیں کر سکا۔
یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ایران میں تحریر کی گئی رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ ناکامی خاتون نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے براہ راست رابطہ کیا تھا، حالانکہ اس پر حکومت کی جانب سے شدید تنقید ہوئی ہے۔ میں ان کو بھی نہیں سمجھت۔ اگر وہ یہ بتائے کہ انہوں نے ایران میں پرتشدد اور کشیدگی کو پھیلانے کے لیے گولی چلی تھی تو مجھے یہ بات بہت متعجب کر دی ہوئی ہے کہ ان کی جان جان بچ گئی ہے!
ایران میڈیا رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ گرفتار افراد کو Chief Justice Ghulam Hossein Mossavi نے ریکارڈ کروایا ہے، جس پر باتچیت کی گئی ہے کہ انہوں نے ملک میں کشیدگی کو پھیلانے کے لیے گولی چلی تھی! یہ بھی نہیں سمجھت۔
ایران کی حکومت نے بتایا ہے کہ تمام ملزمان بالواسطہ یا بلاواسطہ غیرملکی خفیہ ایجنسیوں سے منسلک تھے اور انہیں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دباؤ میں آئے تھے۔ لگتا ہے کہ یہgovernment ko ہی پٹنی پڑے!
ایسے تو کچھ چنتنا نہیں کیجے یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ ملک میں کشیدگی کو پھیلانے والے لوگ کتنے بہت خطرناک اور دہشت گرد ہیں! ان کی جان جان بچ گئی ہے، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اگر حکومت نے اس پر تھپک تو اس میں ایسے لوگوں کے دباؤ کو روکنے کے لیے کچھ ضروری کیا پائے گا۔ مگر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ لوگ جو کشیدگی کو پھیلاتے ہیں انہیں یہاں تک دبایا جا سکتا ہے کہ وہ اس میں بھاگنے کی اجازت نہ دے، اور پھر بھی یہ لوگ خطرناک ہیں!
ایسے لوگ نہیں بنتے، جو پریشانیوں اور تحفظ کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو کر شکار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہ جو اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں ان کے چہرے پر ہار نہیں پوچتی ۔