جوڈیشل کمیشن اجلاس: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری

موتیا عاشق

Well-known member
چیف جسٹس یحییٰ آفرید نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے طارق محمود باجوہ کو اپنی مدت میں توسیع دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے اسلام آباد کے ایڈیشنل جج ملک وقار حیدر، سردار اکبر علی اور سید احسن رضا کی مستقلی کی منظوری بھی دی ہے۔

ذرات پر دیکھتے ہوئے، چیف جسٹس نے ملک جاوید اقبال، محمد جواد ظفر اور خالد اسحاق کو مستقل کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔ پانی سے لے کر آگ پر، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس ملک محمد اویس خالد اور چوہدری سلطان محمود کو مستقل کرنے کی منظوری دی ہے۔

اس سے قبل جوڈیشل کمیشن کا ایک اور اجلاس ہوا تھا جس میں تنویر احمد شیخ اور عبہر گل کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ راجہ غضنفر علی خان کو مستقل کرنے کی منظوری نہیں دی گئی۔

چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا یہ اجلاس پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے سے ہے۔ اس میں 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے اور 4 ایڈیشنل ججز کی مدت میں توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ پچھلے اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ایڈیشنل جج کو مستقل کرنے کی منظوری دی تھی۔
 
تاکئے اُن ججز پر دیکھا جو اب مستقل ہو چکے ہیں، وہ کچھ گروپوں میں ہی نہیں رہے گئے ۔ مثال کے طور پر پانی سے لے کر آگ پر، ایسا لگتا ہے اُن کی توسیع نہیں ہوسکتی تھی یا توسیع میں یقین رکھتے ہوئے اُس کے پاس جگہ کی کوئی سہولت نہیں تھی۔
 
ایسا لگتا ہے اچھا کہ چیف جسٹس نے پانی سے لے کر آگ پر بھی ڈی ایس پی دکھایا ہے، مستقل کرنے کی منظوری دی گئی 6 ایڈیشنل ججز کو دیکھتے ہوئے یقین ہوتا ہے کہ سسٹم میں ایک نئی ہائڈریا کا آغاز ہو رہا ہے
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بڑا کام ہے اور اس پر چیف جسٹس کی جانب سے یقین دہانی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں کافی طاقت پائی گئی ہے، جو کہ وفاقی سطح پر ایک اہم حیثیت رکھتا ہے 🤔
 
عرفان ڈیوئیر! یہ جوڈیشل کمیشن نے فیصلہ کیا ہے، اچھا ہے یا بدمشنہ؟ اور چیف جسٹس آفریدی بہت سنیک سنا دیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس پچھلے ہی اس ہائی کورٹ میں ہو گیا تھا، اور اب یہ ان کا ایک نئا اجلاس بھی کر رہا ہے! ہر ایک کا اپنا فیلو شپ بن گیا ہے، پانی سے لے کر آگ تک... ہاں توسیع دی گئی ہے اور مستقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے! چھوٹے بھرے یہ کیسے چل رہا ہے؟
 
مظاہرے میں شرکت کرنے والوں نے اپنا راز بیان کیا ہے کہ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے جو یہ بات ثبوت دیتی ہے کہ عدالت میں انصاف و انصاف کا عمل چلا رہا ہے।
 
ابھی یوں ہار جاسکتا ہے؟ نا تو پوری پکڑ میں مستقل بنایا گیا، نا تو ان لوگوں کو کوئی معاوضہ دینا چاہिए جبکے کچھ کو ساتھ دیکھتے ہوئے توسیع دی گئی؟ یاروں ایسے ہی رہنے کی کوشش کریں، اگر چیف جسٹس کا ایسا ہی اجلاس ہوتا تو پوری کچرمی وغیرہ کو دیکھتے ہوئے ساتھ اور ساتھ کامیاب رہنا چاہئے!
 
ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ توسیع بہت ضروری ہے، 11 ایڈیشنل جج کو مستقل کرنے سے لوگ سوچ رہے تھے میں نے بھی سوچا کہ یہ توسیع ٹوٹ پتے ہو گئی لیکن اب ہر کپری واضح ہو گیا ہے کہ چیف جسٹس نے اس پر ذمہ دار تصور کیا ہے
 
Wow 💥 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے، یہ بہت اچھا نیوز ہے کہ چیف جسٹس نے ان کے مستقلی کو سنجیدہ لیا ہے
 
عمر کو یہ سیکھنا چاہیے کہ ہائی کورٹ میں بھی لوگ ہوتے ہیں اور ان کو بھی اپنے کام میں معاونت دینی پڑتی ہے! چیف جسٹس کا یہ فیصلہ حیرت انگیز ہو رہا ہے، نئے جج کو مستقل کرنے سے پہلے ان کی کارکردگی اور کمپلیٹی کھڑی کرنا چاہیے۔
 
واپس
Top