خیرپختونخوا میں بلدیاتی نمائندوں نے جاری کردہ احتجاج میں ایسے حالات کے ذمہ دار حلفداروں کو ترجیح دی۔ اس مظاہرے کی سربراہی میئر مردان نے کی اور اس میں صوبہ بھر سے بلدیاتی نمائندے شامل تھے، جنھوں نے بھی ان کی حمایت کی ۔
مظاہرہ خفیہ شعبے کے اراکین کی جانب سے قائم ایسے تحریکی گروہوں کا تانہا نہیں ہے جیسے پچاس اور چار سو کے عرصے سے اسے خیال کرکے لوگ اس کی سربراہی میئر مردان کی کیا تھے اور انھوں نے اسے بلدیاتی نمائندوں کے تحفظ و ترقی کے لیے ایسے محنت سے جود کیا ہے کہ ان کی لکیر کو دیکھا جاسکta۔
انہوں نے پوری صوبائی حکومت کی طرف سے حل طلب مسائل اور گزشتہ چار سالوں سے عدم ترجیح کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام میں موجودہ دور میں ہونے والے بہت شدید بدترین جھیل و ناکاموں کے ساتھ اس میں ان سے بھی زیادہ نقصان اٹھایا جا رہا ہے، کیونکہ جس وقت بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز سے معاف کیا گیا ہے وہ نہیں بنتے کہ انھیں اس میں توسیع کی تجویز کرنا پڑتی ہے اور اس لیے ہم بلدیاتی نمائندوں کو یقین دیا کہ ان کے مطالبے ہماری طرف سے ممتازاً سمجھے جائیں گے۔
اس مظاہرے کی جانب سے جو شہرت اور دیکھ بھال پانے والی تینchy لگ رہی ہے وہ کثیف نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایسا کوئی معصول نہیں ہے جو اس کی بدولت اپنی جگہ پر آجائیں اور ان سے لڑائی لڑیں، مگر یہ بات بھی صاف ہے کہ میئر مردان کا انہی لوگوں کی سربراہی کی ہوئی ہے جو بلدیاتی نمائندوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں، یہ ان کی بھارت نہیں، مگر وہ پوری صوبائی حکومت کو حل طلب مسائل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ دیکھنا بہت ہمدردی کا محسوس ہوا کہ بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے مظاہرہ ہونے پر میئر مردان نے ان کی حمایت کی اور انھوں نے بھی اس میں حصہ لیا ۔ یہ شاندار دکھاؤں کا ایک اہم مڈت ہے کہ لوگ اپنے حقوق کی لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں اور ان کی आवाज بھی سننا پڑے گا۔
اس مظاہرے کی سربراہی میئر مردان نے کی اس سے پہلے کیا کچھ تھا؟ یہ کہ بلاشک ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہمارے لئے ایک نیا جسمانی مظاہرہ بنایا گیا ہے جو آج تک نہیں دیکھا گیا ہے.
اس میں پوری صوبائی حکومت کی طرف سے حل طلب مسائل اور گزشتہ چار سالوں سے عدم ترجیح کی جانب سے بات کرتے ہوئے انھیں اس پر توجہ دینی کی ہے.
مظاہرے میں شامل بلدیاتی نمائندوں نے اپنی تحریکی گروہوں کے ساتھ ایک لکیر بنائی ہے جو صوبہ بھر میں دیکھی جا سکتی ہے.
سٹریٹز میں تو اس کا بھی چلنا پڑگا ہوگا… کئی سال سے بلدیاتی نمائندوں کو ترجیح دینے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے ابھی تو ایسے حالات کے ذمہ دار لوگوں پر چارچا میں آئے ہیں… پوری صوبائی حکومت کی طرف سے حل طلب مسائل کی بات کرنے والوں کو ابھی تو یہی نہیں تھا کہ انھیں بھی ایسے محنت و جود پر مجبور کیا جا رہا ہے… کبھی کچھ لگتا ہے کہ اس میں کیسے چلنا پڑے گا?
اس مظاہرے میں بہت زیادہ محنت اور جدوجہد کا ثبوت سامنے آیا ہے، بلدیاتی نمائندوں کی تحریکی قیادت میئر مردان نے اس کے لیے ایک بھارت بھر سے تعاون اور حمایت حاصل کرلیا ہے! وہ ان لوگوں کو یقین دیا ہے جنھوں نے اپنے ماحول میں بہت زیادہ خرچ اور جوشی سے کام کیا ہے، بلکل ایسی صورت حال میں اس نے ان لوگوں کو یقین دیا ہے کہ ان کے مطالبے اس وقت بھی سمجھے جائیں گے.
یوں ہی یہ مظاہرہ وہ سب پر ایک نئی دھار کا تعین کر رہا ہے جو ابھی بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اس کی سربراہی میئر مردان کی سربراہی میں بھی ایک نئی دھار کا تعین ہو رہا ہے.
اس معاملے میں ایک بات واضح ہے، اس مظاہرے کے بعد بلدیاتی نمائندوں کی ترجیح نہیں دی گئی ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انھوں نے خود اپنے مظاہرے میں بہت متحرک ہونے کی وجہ سے اس پر فوائیر لگا دیا ہو?
یہ واضح ہے کہ بلدیاتی نمائندوں نے انھیں ترجیح دی اور مظاہرے میں بھی سربراہیت کی لیکن اگر اس پر فوائیر لگایا جاتا تو انھیں یہ کہنا پڑتا کہ بلدیاتی نمائندوں نے اپنی معاشیات کو بہتر بنانے اور ترقی کرنے کی کوشش کی تھی، حالانکہ انھوں نے اس سے پوری صوبائی حکومت کی جانب سے بات کی ہے اور ابھی تک جو حل نہیں ہوا ہے وہ بہت تیزی سے آ رہا ہے।
یہ دیکھنا مشکل ہے کہ اب بلدیاتی نمائندوں کی بات کو لینا ایسا آ رہا ہے۔ اس مظاہرے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ یہی چاہتے ہیں کہ انھیں ترقیاتی فنڈز دیئے جائیں اور ان کی ضروریات پورا کی جائے۔ میئر مردان نے ایسا محنت سے تحریکی گروہ کو قائم کیا ہے جیسے اس کا پچاس سالہ تجربہ ہوگا!
یہ مظاہرہ تو باورعظمی ہے … یہ پچاس اور چار سو سالوں سے کیا گیا تعاون کا نتیجہ … میئر مردان کی Leadership ko kya ho raha hai, woh bhi is tarah mehnga hai … ab aapko khayal nahi aata hai ki aaj kal logon ko paise dena hai, bas hi wo jo mazingar hona chाहतi hai?
بلدیاتی نمائندوں کی وہ تحریک جس میں حال ہی میں پاکستان کے مختلف حصوں میں بھی حصہ لئے ہیں، یہ پورا معقول نہیں ہوا کہ انھوں نے مظاہرے سے پہلے وہ اس کی ضرورت کو بھی سمجھا ہو اور اس میں کتنے لوگ سربراہی کی ہو یا کیسے بھی اس پر ان کے خیال کیا جائے یہ بات کافی غمازا ہے…
یہ مظاہرہ بلاشبہ واضح ہے کہ ابھی تک کی حالات خوفناک ہیں ، بلدیاتی نمائندوں کو سمجھایا جاسکتا ہے کہ انھیں بھی ایسے حالات میں کچھ ترجیح دی جا سکتی ہے جن میں اس میں ترقی اور تحفظ کے لیے سہولت ملے ، مگر یہ بات بھی واضع ہے کہ انھوں نے توسیع کی تجویز کرنی پڑی ہے۔
یہ خبر تو بہت چیلنجنگ ہے! خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نمائندوں کی لکیر دیکھ رہی ہے اور یہ بات تازہ ہے کہ مئر مردان نے اس معزز مظاہرے کی سربراہی کی ہے!
پوری صوبائی حکومت سے حل طلب مسائل پر انھوں نے بات کی اور کہا کہ بلدیاتی نظام میں موجودہ دور میں جھیل و ناکام ہیں اس سے زیادہ نقصان ہوا جا رہا ہے! یہ بات بھی تازہ ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز سے معاف کیا گیا ہے اور انھیں توسیع کی تجویز کرنا پڑتی ہے!
میں تھوڑا سمجھتا ہوں کہ بلدیاتی نمائندوں کی اس لکیر کو دیکھا جاسکتا ہے اور انھیں اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ مظاہرہ کیا جا رہا ہے!
اس مظاہرے کی وہی اچھाई ہوگی جیسے پچاس سال پہلے بھی اس طرح کے تحریکی گروپوں نے اپنی جگہ کی رکاوٹ کیا تھا اور اب یہ سربراہی میئر مردان کے ہاتھ میں ہے جو بلدیاتی نمائندوں کے تحفظ و ترقی کے لیے اپنی جانیں لگائیں ہیں تھوڑا سا کیا جاسکتا ہے؟