امریکا کی حکومت میں ایک اور خطرناک پتھر ڈیل کے لئے درمیان میں رہا، یہاں تک کہ اس نے ایسا پتھراں بھی جو ملک کے حوالے کرنے کو تیار ہو گئے تھے ان پر بھی اپنی نظر رکھ لی ہیں۔
حالت یہ ہے کہ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے کہا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے حوالے کرنے کو تیار نہیں ہوتے تو اسے گرین لینڈ حاصل کرنے پر تنقید کی جائے گی اور یہ پتھر انہیں ملک سے distant رہ جائی گا، جس کے بعد روس یا چین اسے حاصل کرنے کا عزم کیا کریں گے، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگی۔
امریکی صدر کا یہ بیان نیٹو سے ایک خطرناک پتھر ڈیل کی طرح آتا ہے، جس پر انہوں نے اس کے حوالے کرنے میں انکار کر دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کو قومی سلامتی کے مقاصد کے لئے امریکہ کی ضرورت ہے۔
نیٹو کے بغیر امریکہ کی فوجی طاقت کچھ نہیں اور اس کا یہ بیان نیٹو کو اگے بڑھنا کے لئے آگاہ کر رہا ہے۔
امریکی صدر کی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر امریکہ گرین لینڈ حاصل نہ کرسکتا تو اسے روس یا چین کے حوالے کرنا پڑ جائے گا، جو اس صورت میں کسی بھی صورت کو قابل قبول نہیں سمجھے گا۔
امریکی صدر کا یہ بیان نیٹو کے لئے ایک خطرناک پتھر ڈیل کی طرح آتا ہے، جس پر انہوں نے اس کے حوالے کرنے میں انکار کر دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کو قومی سلامتی کے مقاصد کے لئے امریکہ کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر کے بیان سے یہ نکلتا ہے کہ وہ نیٹو کو کتنے بھی معاملات میں جالڈ کرنے کی طاقت کے حوالے دیتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے اپنی فوجی طاقت کو محفوظ بنانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں، اور یہ بھی دکھائی دیتے ہیں کہ وہ نیٹو کے بغیر امریکہ کی فوجی طاقت کچھ نہیں ہے جو اسے قومی سلامتی کے مقاصد کے لئے ضروری سمجھتے ہیں?
انہوں نے ایسا یقیناً بیان کیا ہو گا تاکہ نیٹو کو اس کی طاقت کو محفوظ بنانے کے لئے واپس بھیج دیا جائے، جو اس صورت میں نیٹو کے لیے ایک خطرناک پتھر ڈیل ہو گی۔
امریکہ کی حکومت میں ایسا پتھراں موجود ہیں جس پر اب بھی اپنی نظر رکھی جا سکتی ہیں اور وہ بھی اس پر ایسی تنقید کر رہے ہیں جو کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہوگی۔
نیٹو کی taraf سے اب تک ان کی مدد کی گئی تھی اور اب وہیہ ایسا کہ رہنے دیتے ہیں جو کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا، انہیں پتا ہوگا کہ وہ اس پر ایسی بات بھی کر سکتے ہیں جو کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہو گی اور اب ان کی مدد کی جائے گی تو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ایسا لگتا ہے کہ نیٹو سے پتھر ڈیل کرنے کی بات کرنا بہت مشکل ہوگئی ہے اور اب وہیہ ایسا کہ رہنے دیتے ہیں جو کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا، اب انہیں پتھراں ملنے کی بات کرنا بھی مشکل ہوگئی ہے اور وہاں پر رہنا بھی مشکل ہوگا۔
یہ تو بہت خطرناک ہے، میں نے اپنی بھنچکے کے ساتھی سے بات کی تھی اور وہ بھی یہی بات کر رہا تھا۔
امریکہ میں ایسے حالات ہیں جہاں پتھر ڈیل کے لئے اس کی فوجی طاقت کو بھی استعمال کرنا پڑ سکتا ہے، یہ تو ایک خطرناک پتھر ڈیل ہے جس میں امریکہ کا آپریشن بھی شامل ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ مجھے سمجھ آ رہا ہے، نیٹو کو اپنے اراکین کی معاونت کو لازمی بنانے کے لئے ایسا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن یہ بھی بات کہی جائے کہ اگر امریکہ نے ان کی معاونت کو ختم کیا تو اس کے لئے کس طرح کا سہارا لینا پڑے گا؟
ایس میں یہ خطرناک پتھر ڈیل تو بالکل نا صحیح ہے، نیٹو کو بے مانی کرنا اور ان سے کہنا کہ اگر وہ امریکہ کے حوالے کرنے میں انکار نہیں کریں تو اس پر تنقید کی جائے گی تو تو یہاں تک ہے کہ ایک پتھر ڈیل میں امریکی صدر کے لئے کوئی بھی بات نہانی چاہیے، نیٹو کی فوجی طاقت کی بات کرتے ہوئے تو یہ یقینی طور پر ایک خطرناک پتھر ڈیل کی طرح آتا ہے
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے ایسا بیان کر دیا ہے جیسا کہ وہ نیٹو کو فٹ کرنا چاہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیٹو امریکہ سے distant ہونے لگے تو وہ اپنی فوجی طاقت استعمال کر کے انہیں کنٹرول کر لیں گے! یہ کہنا تو بھارتیوں کی طرح امریکیوں کو تینڈگ سسٹم میں رکھنا پڑے گا، لہٰذا نیٹو کو اچھی طرح اگے بڑھنا ہے!
ایسا لگتا ہے جیسا کہ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے ایک خطرناک پتھر ڈیل کی طرح بات کی ہے، لیکن یہ بھی واضع ہے کہ وہ نیٹو کو اپنی سلامتی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں
امریکہ کی فوجی طاقت کی یہ بھرپور بات بھی اچھی ہوسکتی ہے، لیکن اس پر نیٹو کو بھی ایک اہم کردار دیا جاتا ہے، اگر وہ خفیہ نہیں ہوتے تو امریکہ کے لئے فوجی طاقت کچھ نہیں رہ جاتی
اس کی بات سے میرا خیال یہ ہے کہ نیٹو اور امریکہ دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لئے ضروری ہیں، اگر وہ ایسے ہی نہیں رہتے تو دنیا میں اچھی سے بھی نہیں رہتی
یہ ایک خطرناک پتھر ڈیل ہے نہیں؟ اور یہی نہیں، اگر نیٹو ملک سے distant رہ جائے تو ان کا یہ بیان کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا!
لेकن، اگر امریکہ گرین لینڈ حاصل نہ کر سکتا تو اسے روس یا چین کو حاصل کرنے پر تنقید کی جائے گی? یہ بھی ایک خطرناک پتھر ڈیل ہے!
امریکی صدر کی بات تو یہی ہے کہ نیٹو کو اپنی پوری طاقت سے استعمال کرنا چاہئے اور ملک کی سلامتی کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہئے!
لیکن، اگر نیٹو اس طرح سے کام نہ کرے تو اس سے امریکہ کے لئے بھی problem ہی ہوگا! اور یہی نہیں، اگر نیٹو اپنے آپ کو ایک خطرناک پتھر ڈیل کے طور پر دیکھتا ہے تو اسے ابھی بھی خطرناک سمجھایا جا سکتا ہے!
اس صدر کی بات سے میرا بڑا مشق ہوا ہے کہ وہ نیٹو کو ایک خطرناک پتھر ڈیل جیسا کر دیں گے، تو یہ نہیں ہوگا… امریکہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نیٹو ایک قومی سلامتی کی صورت میں اس کے لیے ضروری ہے اور وہ اس کے بغیر اپنی فوجی طاقت کس حد تک استعمال کر سکتی ہے… میری بات یہ نہیں ہے کہ وہ نیٹو کو چھوڑ دیں، لیکن ان کا ساتھ دوسرے ممالک سے لینے کی جگہ کیسے ہوگی؟
امریکی صدر کی یہ سیر و سائے بہت خطرناک لگ رہی ہے، تو نہ صرف نیٹو کو دھمکاوں میں ڈالتا ہے بلکہ اس کے بعد یہ پتھر روس یا چین کو حاصل کرنے کا عزم کرنے پر توجہ دی جائے گا، جس سے دنیا بھی خطرے میں پڑ جائے گی
یہ واضح ہے کہ अमریکی صدر اپنی فوجی طاقت کو اس طرح دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک سے distant رہ جائیں، یہ تو خطرناک نہیں بلکہ غلط ہے۔ نیٹو کو صرف اپنی فوجی طاقت کے لئے الازام نہیں کرنا چاہیے، بلکہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور سہولیات بھی فراہم کرنی چاہیں۔
امریکہ کا یہ کہنا دیکھ کر کچھ لوگ اس پر سڑک پر پہنچ گئے؟ اور نیٹو کو ان کے یہ بیان نہیں سمجھنے دو، یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ان سے انکار کر دیتے ہیں تو اسے کسی ایسے شخص کو ملا دیں جو اسے زیادہ بھاگ لگیں گے?
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان نیٹو کے لئے ایک خطرناک پتھر ڈیل ہی جیسا ہے، لیکن یہ بات غلط نہیں کہ وہ ان کی سلامتی کو بھی جانتے ہیں، وہ نسل یا قومیت کے لئے اس پتھر کو کبھی بھی نہیں چھوڑنغے، لیکن یہ بات ضروری ہے کہ نیٹو اپنی قومی سلامتی کی حفاظت کے لئے اس پتھر کو ایک اچھا مقام بھی تلاش کر سکیں اور اس پر انہیں کنٹرول رکھنا چاہیے، یا تو وہ اسے اپنی ملک کے لئے ہی حاصل کریں گے، یا یہ پتھراں انہیں ایسے ملکوں سے بھی حاصل کرنے کی چابوتہ کر دی جائے گی جو انہوں نے اسے اپنی ملک کے لئے چھوڑنا نہیں چاہتے، یہ پتھر ڈیل ہمیں دیکھنے اور سوچنے کی ضرورت ہے!
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کی بات سے یہ واضح ہو گا کہ اس کی حکومت کے پاس ایسے پتھر ڈیل کرنے کی ضرورت ہے جو انہیں ملک سے distant رہ جائیں گے اور ان کو نہیں مل سکیں گے! یہ تو ایک خطرناک پتھر ڈیل کی طرح ہے جو کہ نیٹو کی سلامتی کا خطرہ بن رہا ہے، اور اگر انہیں ملک سے distant رہ جائیں گے تو وہ روس یا چین کو اس پر فخر کرنے والے ہوں گے!
امریکی صدر کی بات سے یہ بھی واضح ہو گا کہ ان کے پاس قومی سلامتی کے لئے ایسے پتھر ڈیل کرنے کی قدرتیں نہیں ہیں! یہ تو نیٹو کے لئے ایک خطرناک پتھر ڈیل ہے جس پر انہوں نے اس کے حوالے کرنے میں انکار کر دیا ہے، اور نیٹو کو قومی سلامتی کے مقاصد کے لئے امریکہ کی ضرورت ہے!
امریکی صدر کی بات سے یہ بھی واضح ہو گا کہ ان کے پاس ایسے پتھر ڈیل کرنے کی قدرتیں نہیں ہیں! اس میں سے کوئی بھی بات نیٹو کے لئے خطرناک ہے، اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اگر انہیں ملک سے distant رہ جائیں گے تو روس یا چین اس پر فخر کرنے والے ہوں گے!
امریکہ نے پھر ایک خطرناک پتھراں بھی بنایا ہے، اب یہ نیٹو کے حوالے کرنے کو تیار ہونے کی بھی تنگ آچکی ہے ۔ دونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر نیٹو اس پر اتفاق نہیں کرتا تو اسے گرین لینڈ حاصل کرنے پر تنقید کی جائے گی اور یہ پتھر امریکہ سے distant رہ جائی گا، جو بہت خطرناک ہے . نیٹو کو اپنی قومی سلامتی کے مقاصد کے لئے امریکہ کی ضرورت ہیں، اس پر انہوں نے کھل کر کہا ہے اور اب یہ بات ایک خطرناک پتھر ڈیل کی طرح آ رہی ہے جس پر نیٹو کو اپنی جان ہی نہ چکی ہو۔