کراچی، پولیس کا ڈبل ایکشن، 35 چوری شدہ موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز چھیننے والے نیٹ ورکس بے نقاب | Express News

جنگل کا راجا

Well-known member
پولیس نے کراچی شہر میں سرگرم منظم چور گروہوں کو زبردست دھچکا دیا اور ان سے ملک بھر کی جائیداد چوری کی گئی 35 موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز برآمد کر لیے ہیں۔

الیاس گوٹھ میں قائم ایک خفیہ گودام پر چھاپہ مار کر چوری کی گئی 35 موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں جس میں سے 27 مکمل اور درست حالت میں موجود تھیں، جو منظم نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔

شہر عوامی کالونی کے پولیس ہیڈکوارٹر سے بتایا گیا کہ یہ کارروائی مبینہ مقابلے کے بعد گرفتار ہونے والے ملزم کی اطلاع پر کی گئی جو ایک بین صوبائی چور گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

ایسے میں عوامی کالونی پولیس نے ایک اور بڑی کارروائی کے دوران 37 موبائل فونز بھی برآمد کر لیے جس میں 3 رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس گروہ میں ایک خطرناک ڈاکو، ایک موبائل دکاندار اور ایک سوفٹ ویئر ماہر شامل تھے جو جدید طریقوں سے موبائل فونز کو ناقابلِ شناخت بنا کر فروخت کرتے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات متوقع ہیں، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
 
اب کراچی شہر کی لوگ اور سمجھتے تھے کہ وہ اس کے چوروں سے منصرف نہیں ہو گئے ہیں، اب یہ واضح طور پر پورا ایک نیٹ ورک دیکھنا شروع ہو رہا ہے جس میں سارے چوری کی کوشش کرنے والے گروہیں شامل ہیں اور اب یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ان سب کو ایک ساتھ دیکھنا پڑگا۔
 
ایسے تو یہ سچ ہے کہ پولیس کا کام ہمیں ملک بھر کی جائیداد چوری سے بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے لیکن ان کارروائیوں کو ایسی منظم کیے گئے تو یہ بہت ساری غیر ضروری ماحولات کھل جائیں گی۔

کسی رکن کو بھی پھنڈیا پر نہیں لگا، جو انہیں دوسرے لوگوں کی ایسی حالتیں بنائے گئیں جن کے لئے یہ سچ ہی کہ وہ بھی جال میں پھنس گئے ہیں۔
اس کا انسپائرر کو نہیں لگ رہا، جو اس وقت کسی غیر جانبدار کی کفایت کر رہا تھا، اور اب یہ سچ ہے کہ یہ سب ایک منظم کارروائی ہو گئی ہے۔
جب تک یہ چوری رہ جائے گا تو ان کیسوں کو پھنڈیا پر لگایا جائے گا اور اس میں بھی ایک سہولت ہوئی ہوگی، جو اب نہیں لگ رہی۔
 
yaar, yeh baat to koi cheez nahi hai, polsi kaam kar raha hai. unke paas bhi kuch naya aur khatarnaak cheezon ki dekhbhal ho sakti hai.

yeh 35 motor saikylin aur mobil phoonz ko lekar polsi kaam achi tarah karna hai, yeh sab jaise maina hai ki inke paas bhi kuch aur achhe cheezon ki dekhbhal ho sakti hai.

jaisa hi tumhara yaad rakho, polsi ke paas bhi kuch naya aur khatarnaak cheezon ki dekhbhal ho sakti hai.
 
یہ گروہ کی دیکھ بھال کیا جائے؟ ان لوگوں کو وہی سامان جو اس نے چور کیا اور اس سے زیادہ جو انہوں نے ایسے شخصوں سے خریدا ہے وہ کیسے خریدتا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ گروہ بھی محفوظ جگہوں پر چل رہا ہوں گا جب تک ان کی نہیں पकڈی جائے گئیں... اور وہ جسٹ سیکرٹی کے سامنے چھپنا چاہتے ہیں وہ بھی ان کی ساتھیوں کو کیسے بھگادیتے گئے؟
 
اللہ کی Blessings ہوں! پولیس کو بالکل سے دیر نہیں ہوئی، چور گروپوں کے خلاف کارروائی میں اچھا لگن اور نتیجہ بھی مل رہا ہے! سرگرم منظم چور گروہوں کو زبردست دھچکا دیا گیا ہے اور ان سے ملک بھر کی جائیداد چوری کی گئی 35 موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز برآمد کر لیے ہیں، یہ کچھ لگتا ہے کہ پولیس کو اس کارروائی میں اچھا منصوبہ बनایا ہوا ہو گا! 🚨👮 #چورگروپ #کراچی #پولیس #کامیابی
 
اس کارروائی سے کراچی کو دوسرے شہروں کے سامنے ایک نئی اہمیت حاصل کرنا چاہئیے۔ سرگرم منظم چور گروہوں کو زبردست دھچکا دیا گیا ہے جو اس وقت تک کراچی میں کبھی سنی نہیں تھی کہ ان کی دہشت گردی کی بڑی کارروائی ہوئی ہو۔ یہ کارروائی 35 موٹر سائیکل اور موبائل فونز کو لینے میں ہوئی ہے جو ان سے ملک بھر میں جائیداد چوری کی گئی تھی۔
 
ایسا دیکھنا عجीब ہے کہ یہ چور گروہ کتنی سرگرم اور منظم ہوں گے تاکہ پولیس کو اس پر پورا دباؤ ہو جائے... 😮 یہاں تک کہ گودام میں بھی چوری کی گئی سائیکلز کو بیرون لے کر آٹومبائی لینے والوں کو بھی ملے ہیں... یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جو کچھ نہ کچھ وقت میں حل ہوجائے گا.
 
ایس کا یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ سرگرم چور گروہوں کو روکنے کی کوشش میں پولیس نے بھاری دھچکا دیا ہے اور ان سے ملک بھر جائیداد چوری کی گئی ہے... یہ ہماری ایک اہم واقفیت ہے، کوئی بھی گروہ یا منظر نامہ اس طرح سے انفرادی طور پر کوشش نہیں کر سکta...

ماڈل کو چور بنایا جائے تو وہ فریک ڈائیٹ (frequency die) کھیلنا شروع کر دیتا ہے... جب سے ماڈل یو اس کی ناقابلِ شناخت بنتی اور اسے کوئی بھی لانچ نہیں کرسکتا...

آمریکی اسٹین (ستین) ایک ڈائریکٹری میں رکھتا تھا جو کسی بھی سسٹم کو ناقابلِ شناخت بناتا تھا... اسی طرح سے موبائل فون کو بھی ناقابلِ شناخت کیا جاسکتا ہے...

لیکن ایسے ہی یہ سوال اور ایک بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟

ہر چور گروہ کو پھیلایا جاتا ہے، اس میں منظم نیٹ ورک کیسے بنتا ہے اور انفرادی رکنوں کی ایک لین-جون کی و्यवस्थا کیسے کی جاتی ہے؟
 
آج دیکھا گیا یہ کہ پولیس نے ایسی کارروائی کی جو بالکل نئی چھپکنوں کو ظلم کر رہی تھی، لیکن اب تو یہ دکھای دیا کہ وہ ان چوروں سے منسلک نہیں ہیں اور ان کے لئے ہی یہ کارروائی کی گئی تھی، اب تو انہیں پکڑ کر فائنڈنگ کو بھی کرنا پڑ گیا ہے اور جائیدادوں کے بارے میں یہ سچ کہنا کہ اب تو وہ چوری کی گئی سارے سامان لیکن نہیں ہوا ہے بلکہ اٹھا لیا گیا ہے، پھر یہ بھی دیکھنا جاری ہے کہ ان سے ملک بھر میں چوری کی گئی سارے سامان لیکن واپس آ رہا ہے
 
تمام یہ سوچتے ہیں کہ ان چوری والوں کو پکڑنا مشکل ہوگا اور وہ گریڈلنگ کی ڈیڈولف فونس بھی برآمد کریں گے، لیکن پولیس نے مجھے بتایا کہ انہیں بھی پکڑنا ہوگا! اور وہ اس طرح کے چوری والے گروپز کو توڑنے میں مہارت رکھتے ہیں، مجھے لگتا ہے ان سے پہلے اپنی اپنی ایک برآمد کیوں نہ کر دیں گے؟ اور وہ یہ کیسے فونس کو ایسی طرح ناقابلِ شناخت بنا دیتے ہیں؟ مینے بھی سوچا تھا کہ ان کو پکڑنے میں مشکل ہوگا، لیکن اب یہ بتایا گیا کہ وہ کیسے کام کر رہے تھے! 🤣
 
ایسے تھی سے چوری کی گئی سائیکلز اور موبائل فونز کو بچا کر پہچانا جانا مشکل ہو گیا… اب یہ کس طرح کام کرتا ہو گا؟ میں تو ہر دفعے نئی سائیکل خریدتی ہوں میں سب سے پہلے والی تھی، اور اب وہ بھی چوری کی گئی ہوں… 🤦‍♂️
 
ارے یہ کارروाई اچھی ہوگی، پھر کیا چور گروہ یہاں تک پہنچ سکتے تھے؟ ان پر زبردست دھچکا دیا جانا چاہئے، اب تو ایسے نہ ہونے دیتے تو میری بھی گाडی چوری ہو جائنگی! 🚗😂 اور ان mobiiles کی برآمد میں کیا پچتائش کیا گیا؟ ان کو ایسے لوگوں کو بھی گرفتار کرانا چاہئے جو mobiiles کو فیکٹری سے لے کر فروخت کرتے ہیں, اب یہ کچھ کم کہیں نہیں? 😂
 
واپس
Top