پشاور ہائیکورٹ میں چار ایڈیشنل ججز کو مستقل بنانے کی منظوری دی گئی، حالانکہ ساتھ ہی چھ ایڈیشنل جज़ز کو مستقل کرنے پر بھی فیصلہ کیا گیا تھا جنھیں اب تک ایک سال میں دو مرتبہ ترمیم کی گئی تھی۔
جسٹس طارق آفریدی اور جسٹس عبدالفیاض کو مستقل جج بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے سفارش کی ہے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان کے صدر دھرنویں نے مंजوری دی ہے اور انھیں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑے گا۔
مستقل بنانے کی منظوری دی گئی ایسے ججز کے نام جس میں شامل ہیں جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق اور جسٹس مدثر نے ایک سال میں دو مرتبہ تھیمریشن کی گئی۔ انہیں بھی مستقل کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، لیکن انھیں تک مستقل بنانے کی منظوری دی گئی ہے جس پر ابھی تک ماجوہ نہیں ہوا تھا۔
اس کے علاوہ 4 ایڈیشنل ججز کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی، جنھیں ایڈیشنل جسٹس فرح جمشید اور جسٹس انعام اللہ کا مقام حاصل کرنا تھا لیکن انہیں تک تھیمریشن کی گئی تھی۔ ایڈیشنل جسٹس صبغت اللہ اور جسٹس اورنگزیب کو بھی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے، حالانکہ ان کا مقام پورا نہیں ہوا تھا۔
جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کو مستقل بنانے کے لیے بھی جوڈیشل کمیشن کی سفارش کی گئی ہے اور اس پر بھی مافقہ کیا گیا ہے جس پر ابھی تک مستقل بنانے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
جسٹس طارق آفریدی اور جسٹس عبدالفیاض کو مستقل جج بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے سفارش کی ہے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان کے صدر دھرنویں نے مंजوری دی ہے اور انھیں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑے گا۔
مستقل بنانے کی منظوری دی گئی ایسے ججز کے نام جس میں شامل ہیں جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق اور جسٹس مدثر نے ایک سال میں دو مرتبہ تھیمریشن کی گئی۔ انہیں بھی مستقل کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، لیکن انھیں تک مستقل بنانے کی منظوری دی گئی ہے جس پر ابھی تک ماجوہ نہیں ہوا تھا۔
اس کے علاوہ 4 ایڈیشنل ججز کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی، جنھیں ایڈیشنل جسٹس فرح جمشید اور جسٹس انعام اللہ کا مقام حاصل کرنا تھا لیکن انہیں تک تھیمریشن کی گئی تھی۔ ایڈیشنل جسٹس صبغت اللہ اور جسٹس اورنگزیب کو بھی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے، حالانکہ ان کا مقام پورا نہیں ہوا تھا۔
جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کو مستقل بنانے کے لیے بھی جوڈیشل کمیشن کی سفارش کی گئی ہے اور اس پر بھی مافقہ کیا گیا ہے جس پر ابھی تک مستقل بنانے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔