پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری

گلہری

Well-known member
پشاور ہائیکورٹ میں چار ایڈیشنل ججز کو مستقل بنانے کی منظوری دی گئی، حالانکہ ساتھ ہی چھ ایڈیشنل جज़ز کو مستقل کرنے پر بھی فیصلہ کیا گیا تھا جنھیں اب تک ایک سال میں دو مرتبہ ترمیم کی گئی تھی۔

جسٹس طارق آفریدی اور جسٹس عبدالفیاض کو مستقل جج بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے سفارش کی ہے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان کے صدر دھرنویں نے مंजوری دی ہے اور انھیں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑے گا۔

مستقل بنانے کی منظوری دی گئی ایسے ججز کے نام جس میں شامل ہیں جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق اور جسٹس مدثر نے ایک سال میں دو مرتبہ تھیمریشن کی گئی۔ انہیں بھی مستقل کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، لیکن انھیں تک مستقل بنانے کی منظوری دی گئی ہے جس پر ابھی تک ماجوہ نہیں ہوا تھا۔

اس کے علاوہ 4 ایڈیشنل ججز کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی، جنھیں ایڈیشنل جسٹس فرح جمشید اور جسٹس انعام اللہ کا مقام حاصل کرنا تھا لیکن انہیں تک تھیمریشن کی گئی تھی۔ ایڈیشنل جسٹس صبغت اللہ اور جسٹس اورنگزیب کو بھی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے، حالانکہ ان کا مقام پورا نہیں ہوا تھا۔

جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کو مستقل بنانے کے لیے بھی جوڈیشل کمیشن کی سفارش کی گئی ہے اور اس پر بھی مافقہ کیا گیا ہے جس پر ابھی تک مستقل بنانے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
 
مگر یہ کام کیوں تو لگ رہے ہیں؟ ایک سال میں دو مرتبہ ترمیم کرنے کے بعد اب بھی ان ججز کو مستقل نہیں بنایا جا سکا! یہ کام کیوں تو لگ رہے ہیں؟ @PunjabJudiciary
 
عوض کیا پائے ان ایڈیشنل ججز کو مستقل بناتے ہیں اور وہی چار جو ترمیم سے گزرتے رہے؟ میری نظر سے یہ عجیب ہے کہ انہیں ایک سال میں دو مرتبہ تھیمریشن ہوئی اور اب تو مستقل بنانے کی منظوری دی گئی، لیکن آج چار ایڈیشنل ججز کو مستقل بناتے ہیں اور دوسروں کا کیا فائدہ ہوگا؟
اس ماحول میں یہ بھی عجیب بات ہے کہ چیف جسٹس نے سفارش کی گئی ایسی ججز کو مستقل بنانے کی منظوری دی، لیکن ہر سال دوسروں کا فیصلہ ہوتا رہتا ہے تو کیا انہیں یہ سب کچھ کس کے لئے فائدہ اٹھاتا ہو؟
 
اس طرح سے ہائیکوٹ کو چار ایڈیشنل ججز کو مستقل بناتے ہوئے پورے نظام میں تبدیلی لانے کی ایک بڑی بات ہو گی، یہ کہ صدر نے انھیں مقبولیت حاصل کرنے کو دے دی ہو گی لیکن اس سے ڈپٹی چیف جسٹس کی کردار پر بھی توجہ ملگی ہو گی، کیا ہائیکوت میں ڈپٹی چیف جسٹس کو بھی مستقل بنایا جائے گا؟
 
ایسے میں پتہ چلتا ہے ہائیکورٹ کی ایڈیشنل ججز کو مستقل بنانے کا فیصلہ، ساتھ ہی یہ راز نکلتا ہے کہ میرے لئے بھی یہ راز ایک سال سے زیادہ عرصہ چل رہا تھا۔ یہ توسیع کے لیے، اچھا ہے یا نہیں وہ بات ایسا نہیں، تاہم ان ججز کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع دی گئی ہے جو میرے لئے بھی اچھی ہوگی کیونکہ ایسا کرنا بھی ضروری ہے جب یہ راز چل رہا تھا۔
 
🤔 ایسے ایڈیشنل ججز کی توسیع کی بھی توقع تھی اور یہ کیا کہ ان کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع دی گئی، لیکن ابھی تک ماجوہ نہیں ہوا، اس سے دوسری ایڈیشنل جज़ز کی توسیع میں بھی توقع کیا جا سکتی ہے۔

اس پالیسی کا مقصد اور ان میں شامل جانے والے لوگوں کو بھی اس پر یقین ہونا چاہئے، جسٹس طارق آفریدی اور جسٹس عبدالفیاض کو مستقل بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کی سفارش تھی، ابھی تک ان کا فیصلہ نہیں ہوا تھا تو یہ بہت اچھا ہے۔
 
مستقبل پاکستان کی کورٹ سسٹم کو بھی بہتر بنانے کی یہ فائda، چیلنجز کے ساتھ آئی ہوئی ہے۔ یہ چار ایڈیشنل ججز کو مستقل بنانے کی منظوری دی گئی، جس میں توسیع کی بھی منظوری دی گئی تھی۔ اگرچہ یہ فیصلہ چیئر مین نے کیا ہوگا لیکن اس پر صدر دھرنویں نے مंजوری دی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک بڑا پہلو ہوگا جن کے علاوہ چار ایڈیشنل ججز کو مستقل بنانے کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی ہے، جو مستقبل پاکستان کی کورٹ سسٹم کو بھی اچھا دکھائیگا۔
 
ਮੈں اس بات سے متشکک ہونے لگا ہوں کہ یہ چار ایڈیشنل ججز مستقل بننے کی منظوری دی جانے والی بات تو ضرور ضروری ہے لیکن پچھلی بار انہیں مستقل بنانے کا فیصلہ ہو گیا تھا اور اب تک کچھ نہیں ہوا تھا، تو کیے جانے والے کا یہ راستہ ٹھیک نہیں ہے؟ ایک سال میں دو مرتبہ تھیمریشن ہونے کے بعد بھی انہیں مستقل بنانے کی منظوری دی گئی، یہ تو معقول نہیں لگتا!
 
یہ بات تو واضح ہے کہ چیف جسٹس کو ایک ساتھ ایسے تمام ماحول پر نظر انداز کرنا پڑ رہا ہے جو ان کے لیے بہترین نہیں لگ رہا، حالانکہ وہ اپنی جگہ تو سب سے اچھی لگ رہا ہے۔
 
عوض بھی ہوا اور اس میں بھی کوئی ذہنی اچانکپن نہیں ہوا؟ چار ایڈیشنل ججز کو مستقل بنانے کی منظوری دی گئی، لیکن یہ سب سے پہلے کیا جائے گا؟ مگر ہم نے ایک سال میں دو مرتبہ انہیں تھیمریشن دیکھا ہے تو کیوں مستقل بنانے کی منظوری دی گئی؟ 6 ماہ کی توسیع کا فیصلہ بھی ہوا لگتا ہے، لیکن یہ سچ ہونا چاہیے کہ مستقل بنانے کی نiti کو اچھی طرح سمجھایا جائے اور اس پر عمل کرنا ہو گا۔
 
واپس
Top